شیخ رشید نااہلی سے بچ گئے،عدالت نے فیصلہ سنادیا

Samaa Web Desk
June 13, 2018

سپریم کورٹ نے شیخ رشیدکی نااہلی کی درخواست خارج کردی۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نااہلی سے بچ گئے۔عدالت نے شیخ رشید احمد کوانتخابات میں حصہ لینےکی اجازت دےدی۔ انھوں نے عمران خان کے ساتھ مل کر حکومت بنانےکی خواہش کااظہار بھی کردیا۔

جسٹس شیخ عظمت سعیدکی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ شیخ رشیدنااہلی سے بچ گئے۔ سپریم کورٹ نے شیخ رشیدکی نااہلی کی درخواست خارج کردی۔ شیخ رشید احمد کے حق میں فیصلہ دو ایک سے سنایا گیا۔تین رکنی بنچ کااکثریتی فیصلہ23صفحات پرمشتمل ہے۔ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نےفیصلےپراختلاف کیا۔  جسٹس فائزعیسی نے28صفحات پرمشتمل اختلافی نوٹ لکھا۔جسٹس عظمت سعیدنےتفصیلی فیصلہ تحریرکیا۔ جسٹس فائزنےاختلافی نوٹ تحریر کیاکہ اس معاملے پرلارجربنچ تشکیل دیاجائے۔ عدالت نےشیخ رشید کوعام انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت بھی دے دی۔

اس کیس کےتفصیلی فیصلےمیں درج ہےکہ شیخ رشید1081کنال زمین کےمالک ہیں۔فارم میں غلطی سے983کنال لکھاگیا۔جائیدادکی الگ الگ تفصیلات میں1081کنال ظاہرکیےگئےہیں۔شیخ رشیدنےدرخواست گزارکےالزام سےبھی زیادہ جائیدادظاہرکی۔فیصلےمیں کہاگیاہےکہ زیادہ جائیدادظاہرکرنےپراثاثےچھپانےکامرتکب قرارنہیں دیاجاسکتا۔ سپریم کورٹ کے فیصلےکےمطابق شیخ رشیدپرزرعی اراضی چھپانےکاالزام ثابت نہیں ہوسکا۔

اس موقع پر میڈیا سے بات کرتےہوئے شیخ رشید احمد نےکہاکہ میں بہت عاجزاوربڑاعام قسم کاآدمی ہوں،اللہ نےآج پھرمجھےعزت دی ہے۔انھوں نےکہاکہ اپنی زندگی میں کوئی دولت نہیں چھپائی۔ ارادہ تھاکہ اگرفیصلہ خلاف آیاتوقبول کروں گا۔ انھوں نے مخالفین کو للکارتےہوئے کہاکہ نوازشریف اور شہباز شریف ،میں آرہاہوں۔ سربراہ عوامی مسلم لیگ نے دعویٰ کیاکہ تین ماہ میں راولپنڈی میں بڑاجواکھیلاگیا۔مخالفین میری سیاسی موت چاہتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ میں آمرکی پیداوارنہیں ہوں، جن کی چھتیں ٹپکتی ہے میں ان کا لیڈر ہوں۔ شیخ رشید احمد نے شکوہ کیاکہ عوامی مسلم لیگ کو جان بوجھ کر ترقی نہیں دی۔عمران خان ان سب میں مجھے بہتر نظر آتا ہے،عمران خان کے ساتھ مل کر حکومت بناؤں گا۔

جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے 20 مارچ کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔شیخ رشید کے مخالف امیدوار لیگی رہنما ملک شکیل اعوان نے ان پر اثاثوں کی درست مالیت ظاہر نہ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ شیخ رشید کیخلاف درخواست الیکشن ٹربیونل نے خارج کردی تھی جس پر شکیل اعوان نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے 17 مارچ 2015 کو دائر ہونے والی اپیل پر یکم جنوری 2017 سے 20 مارچ تک آٹھ سماعتیں کیں۔شیخ رشیدنےموقف اپنایا تھا کہ انہوں نے اثاثوں سے متعلق غلط بیانی نہیں کی بلکہ ان کے وکیل سے فارم بھرنے میں غلطی ہوگئی تھی۔

فیصلے سے قبل میڈیاسے بات کرتےہوئے شیخ رشید احمد کاکہناتھاکہ فیصلہ جوبھی ہوہم اسکو قبول کریں گے۔ مجھے سب نے منع کیاہواتھاکہ میں نہ جاؤں مگر فیصلہ سننےکےلیے خود آیا۔