کوئٹہ : داعش کے بھیس میں لشکر جھنگوی کے مسیحی برادری پر حملے

April 16, 2018

کراچی : کوئٹہ میں دہشت گردی کے تازہ واقعات میں 15 عیسائیوں کو قتل کردیا گیا، تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

کوئٹہ میں تازہ کارروائی کے دوران مذہبی اقلیت سے تعلق رکھنے والے افراد کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اتوار کے روز مذہبی رسومات ادا کرکے واپس جارہے تھے۔

واقعے میں 2 افراد جاں بحق جبکہ تین زخمی ہوئے، زخمیوں میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔

بلوچستان کے دارالحکومت میں چند روز کے دوران عیسائیوں پر حملے کا یہ دوسرا واقعہ تھا، اس سے قبل 2 اپریل کو کوئٹہ کے علاقے شاہ زمان میں 4 عیسائیوں کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔

گزشتہ سال دسمبر میں کرسمس تقریبات سے ایک ہفتہ قبل کوئٹہ کے بیتھل میموریل چرچ پر دہشت گردوں کے حملے میں 9 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔

اقلیتوں پر آئے روز کے حملوں کے باوجود پولیس اور سیکیورٹی حکام تاحال حملوں میں ملوث عناصر کی گرفتاری میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

افغانستان اور پاکستان میں داعش کا ذیلی گروہ ان تینوں حملوں کی ذمہ داری قبول کرچکا ہے تاہم سیکیورٹی حکام بلوچستان میں داعش کے منظم ہونے سے بارہا انکار کرچکے ہیں۔

سماء سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں داعش کے منظم نیٹ ورک کا کوئی وجود نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کالعدم لشکر جھنگوی اور اس کے بطن سے پیدا ہونیوالی ذیلی تنظیم کالعدم لشکر جھنگوی العالمی افغانستان میں موجود داعش کی معاونت سے بلوچستان میں حملے کررہی ہیں۔

وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی افغانستان کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ صوبے میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث گروپوں کو افغانستان کی پشت پناہی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی داعش حملوں کے جعلے دعوے کرتی رہی ہے۔

وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ ان کی حکومت تخریبی کارروائیوں میں ملوث عناصر کو جلد بے نقاب کردے گی۔

عبدالرزاق چیمہ کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں لشکر جھنگوی ہی دراصل داعش ہے، جس کا سربراہ افغانستان میں روپوش ہے، لشکر جھنگوی اور دیگر فرقہ وارانہ گروہوں نے داعش کے ساتھ الحاق کرلیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اس بات کی مصدقہ اطلاعات ہیں کہ عیسائی برادری پر حملوں کے پیچھے داعش کا ہاتھ ہے، شہری علاقوں میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں موجود نہیں، تخریب کار نواحی علاقوں میں چھپتے ہیں۔

سینئر پولیس افسر نے مزید بتایا کہ گزشتہ برس دسمبر میں چرچ پر ہونیوالے حملے میں ملوث گروپ کو شناخت کرلیا گیا ہے، انہیں جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔

باوثوق ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سماء کو بتایا کہ حالیہ دنوں میں چھاپوں کے باوجود دہشت گردوں کے مستونگ اور دشت میں ٹھکانے موجود ہیں۔

لشکر جھنگوی سے منسلک مقامی کارکن، جیش الاسلام اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان صوبے میں متحریک ہیں، تاہم ان کے سربراہان افغانستان میں روپوش ہیں۔

سابق صوبائی وزیر تعلیم اور عیسائی برادری کے سینئر رہنماء جعفر جارج کا کہنا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اقلیتوں کی حفاظت میں ناکام ہوگئیں، وزیراعلیٰ بلوچستان  عبدالقدوس بزنجو نے گزشتہ روز فائرنگ کے واقعے کا نوٹس 3 گھنٹے طویل احتجاج کے بعد لیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ داعش شاید مجھے، میرے والدین اور بچوں کو بھی مار دے، تب بھی ہم اپنے عقیدے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

سینئر صحافی اور سماء کے بیورو چیف جلال نور زئی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ صوبے میں دہشت گردی کرنیوالے افغانستان سے چلائے جانیوالے نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شہر میں ہونیوالے پے در پے واقعات کے باوجود سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب نہ ہوسکی، جو حکومت کی ناکامی ہے۔

بیورو چیف سماء نے بتایا کہ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے شہر میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کا ٹھیکہ چینی کمپنی کو دیا تھا تاہم ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد موجودہ وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو نے ٹھیکہ منسوخ کردیا۔