Wednesday, January 19, 2022  | 15 Jamadilakhir, 1443

قازقستان سے روسی فوجیوں کی واپسی شروع

SAMAA | - Posted: Jan 13, 2022 | Last Updated: 6 days ago
SAMAA |
Posted: Jan 13, 2022 | Last Updated: 6 days ago

روسی وزارت دفاع نے وسطی ایشیائی ریاست قازقستان میں تعینات روسی افواج کے انخلاء کی تصدیق کردی۔

وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ قازقستان میں اہم تنصیبات کی نگرانی کے لیے فوجی دستوں کو بھیجا گیا تھا تاہم اب جب کہ صورت حال بہتر ہو چکی ہے تو امن دستوں کے انخلاء کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق فوجی دستوں کے مکمل انخلاء میں 10 دن لگیں گے۔

علاقائی عسکری اتحاد کلیکٹو سکیورٹی ٹریٹی آرگنائزیشن سے امن فوجیوں کی تعیناتی کی درخواست قازقستان کے صدر قاسم جومارات توکائیف نے کی تھی۔

مذکورہ عسکری اتحاد میں روس کے علاوہ بیلا روس، آرمینیا، تاجکستان اور کرغیزستان کے فوجی بھی شامل تھے۔ فوجی مشن کے اختتام کا اعلان فوجی اتحاد کے روسی کمانڈر جنرل اندری سردیئکوف نے ایک تقریب میں کیا۔

خیال رہے کہ قازقستان میں پرتشدد مظاہروں کے تناظر میں علاقائی عسکری اتحاد کلیکٹو کی جانب سے روسی اور دیگر رکن ممالک کی افواج کی تعیناتی کی گئی تھی جس میں روس کے قریب دو ہزار فوجی شامل تھے۔

قازقستان کے صدر قاسم جومارات توکائیف نے امن دستے کی تعیناتی کو نفسیاتی اعتبار سے اپنے ملک میں امن و استحکام کے قیام کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا۔

واضح رہے کہ رواں ماہ کے دوران قازقستان کے مالیاتی مرکز الماتی میں ہزاروں افراد حکومت مخالف مظاہروں میں شریک تھے جس نے ملک میں عدم استحکام کی صورت حال پیدا کر دی تھی۔

حکام کے مطابق ان مظاہروں کے دوران توڑ پھوڑ سے ملکی خزانے کو دو سے تین بلین ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube