Wednesday, January 19, 2022  | 15 Jamadilakhir, 1443

جرمنی:عدالت نےشامی کرنل کو عمر قید کی سزا سنادی

SAMAA | - Posted: Jan 13, 2022 | Last Updated: 6 days ago
SAMAA |
Posted: Jan 13, 2022 | Last Updated: 6 days ago

جرمنی کی عدالت نے شام کے سابق کرنل کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جرمنی کے شہر کوبلنز کی مقامی عدالت نے تاریخی فیصلے میں انور رسلان کو دمشق کی جیل میں انسانیت کے خلاف جرائم کے جرم میں سزا سنائی۔

جمعرات کو کوبلنز میں ریاستی عدالت نے تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ ان لاتعداد شامیوں کے لیے یہ انصاف کی طرف پہلا قدم ہے جو برسوں سے جاری جنگ کے دوران صدر بشار الاسد کی حکومت کے ہاتھوں بدسلوکی کا شکار ہوئے۔

کوبلنز کی عدالت نے فیصلے سے متعلق پریس ریلیز میں بتایا کہ قیدی کو قتل، تشدد، آزادی سے شدید محرومی، عصمت دری اور جنسی زیادتی کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ دنیا کا پہلا مجرمانہ مقدمہ تھا جو شام میں ریاستی زیرقیادت تشدد پر لایا گیا تھا اور 58 سالہ رسلان وہ اعلیٰ ترین سابق حکومتی اہلکار ہیں جن پر وہاں ہونے والے مظالم کا مقدمہ چلایا گیا تھا۔

سماعت کے دوران استغاثہ کا کہنا تھا کہ رسلان نے اپریل 2011 سے ستمبر 2012 کے درمیان شام کے دارالحکومت کی الخطیب جیل میں 4,000 سے زیادہ لوگوں کو ” پلاننگ کے تحت وحشیانہ تشدد” کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کم از کم 58 افراد ہلاک ہوئے۔

استغاثہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ مجرم نے جیل میں عصمت دری اور جنسی زیادتی، “بجلی کے جھٹکے، تاروں اور کوڑوں سے مارا اور لوگوں کو نیند سے بھی محروم رکھا۔

واضح رہے کہ عدالت کی جانب سے کیس کا فیصلہ تقریباً ایک سال بعد آیا، جس میں شامی کرنل کو ساڑھے چار سال قید کی سزا سنائی گئی۔

انور رسلان کی طرح وہ بھی سیاسی پناہ کے متلاشی کے طور پر جرمنی پہنچا اور 2019 میں گرفتار کر لیا گیا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube