Friday, January 28, 2022  | 24 Jamadilakhir, 1443

بھارت کےچيف آف ڈيفنس اسٹاف بپن راوت ہيلی کاپٹرحادثےميں ہلاک

SAMAA | - Posted: Dec 8, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 8, 2021 | Last Updated: 2 months ago

بھارت کی تينوں مسلح افواج کے سربراہ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دست راست جرنيل بپن راوت ہيلی کاپٹر حادثے ميں ہلاک ہوگئے۔

بھارتی ایئرفورس کے ترجمان کے مطابق روسی ساختہ ايم آئی سيونٹين ہيلی کاپٹر ميں بپن راوت اور ان کی اہليہ سميت 14 افراد سوار تھے۔ حادثے میں 13 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ ايک گروپ کیپٹن زخمی حالت ميں ملبے سے ملا ہیں۔

جنرل بپن راوت ، اپنی اہليہ مدھوليکا ، فوجی افسران سميت 14 افراد کے ساتھ ڈیفینس سروسزاسٹاف کالج جارہے تھے جہاں اُنھیں خطاب کرنا تھا۔ تامل ناڈو کے علاقے کونور ميں ان کاہيلی کاپٹر پہاڑی علاقے ميں گرا اور آگ بھڑک اٹھی۔

جنرل بپن راوت نے  جنوری 2019 میں بھارت کے پہلے چیف آف ڈیفنس اسٹاف کا چارج لیا تھا۔ وہ ڈپارٹمنٹ آف ملٹری افئیرزکے سربراہ بھی تھے۔

تباہ ہونے والا ہيلی کاپٹر ايم آئی 17 وی فائيو روسی ساختہ تھا جس کے دو انجن ہوتے ہيں اوريہ کسی بھی موسم میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایم آئی 17 وی 5 ہیلی کاپٹر بھارتی صدر اور وزیراعظم کےليے بھی استعمال ہوتا ہے۔

بپن راوت 2016 سے 2020 تک بھارتی آرمی چيف رہے جس کے بعد انھيں پہلا چيف آف ڈيفنس اسٹاف مقرر کيا گيا تھا۔

پاکستان کی عسکری قیادت نے بھارت میں ہیلی کاپٹر حادثے میں جنرل بپن راوت سمیت قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جنرل بپن راوت اوردیگر کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اظہار تعزیت کیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق جنرل بپن راوت کا تعلق بھارتی ریاست اتراکھنڈ کے ایک ایسے خاندان سے ہے جس کی کئی نسلوں نے انڈین فوج میں خدمات انجام دی ہیں۔ بپن راوت فروری 2015 میں بھی ناگالینڈ میں چیتا ہیلی کاپٹر کے حادثے میں بال بال بچے تھے۔

جنرل بپن راوت نے دسمبر 1978 میں انڈین آرمی کی 11 گورکھا رائفلز کی 5ویں بٹالین میں شمولیت اختیار کی تھی۔ بپن راوت چین اور پاکستان دونوں سرحدوں پر مختلف عہدوں پر تعینات رہ چکے ہیں۔

 میانمار میں 2015 میں ریاست ناگالینڈ سے منسلک عسکریت پسندوں کے خلاف سرحد پار آپریشن کا سہرا بھی جنرل راوت کے سر باندھا جاتا ہے۔

دسمبر 2016 میں حکومت ہند نے انھیں دو سینیئر لیفٹیننٹ جنرلز، پروین بخشی اور پی ایم ہارس پر فوقیت دیتے ہوئے ملک کی برّی فوج کا 27 ویں چیف آف آرمی سٹاف مقرر کیا تھا۔

چالیس سال سے زیادہ کے کیریئر کے دوران اُنھیں متعدد اعزازات سے بھی نوازا گیا۔

 

 

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube