Friday, January 28, 2022  | 24 Jamadilakhir, 1443

اقوام متحدہ:سفیر کی تعیناتی کی طالبان کی درخواست پر فیصلہ موخر

SAMAA | - Posted: Dec 2, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 2, 2021 | Last Updated: 2 months ago

 

 

اقوام متحدہ کی ایک اہم کمیٹی نے میانمار کی فوج اور افغان طالبان کی جانب سے اقوام متحدہ میں اپنے ممالک کے لیے نشستوں کے حصول کی درخواستوں پر کارروائی کو موخر کرنے کا فیصلہ کیا  ہے۔

اقوام متحدہ کی کریڈینشیئل کمیٹی کے اس اعلان کا مطلب یہ ہے کہ میانمار اور افغانستان کی سابقہ حکومتوں کے سفیر فی الحال اپنے عہدوں پر برقرار رہیں گے۔

طالبان نے صدر اشرف غنی کی سابقہ حکومت کے مقرر کردہ سفیر غلام اسحاق زئی کو ہٹا کر محمد سہیل شاہین کو اپنا نیا سفیر مقرر کرنے کی استدعا کی تھی۔ لیکن اسحاق زئی نے بھی ادارے سے اپنی سیٹ برقرار رکھنے کی اپیل کی تھی۔

دوحا مذاکرات کے دوران سہیل شاہین طالبان کے ترجمان کے طور پر کام کرنے کے علاوہ طالبان حکومت کے ترجمان کے طور پر بھی کام کرتے رہے ہیں۔ طالبان نے اس برس اگست میں کابل پر قبضہ کر لیا تھا اور ستمبر میں اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران ہی اپنا سفیر متعین کرنے کی درخواست دی تھی۔

دوسری جانب میانمار کی موجودہ فوجی حکومت نے اقوام متحدہ میں سابقہ حکومت کے مقرر کردہ سفیر کیاؤ مو تن کی جگہ ایک سابق فوجی آنگ تھرویئن کو مقرر کرنے کی درخواست دی ہوئی ہے۔ میانمار فوج کے سربراہ نے فروری میں سویلین رہنما آنگ سان سوچی کی منتخب حکومت کا تختہ پلٹ کر اقتدار چھین لیا تھا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوتیرس کا کہنا ہے کہ اگر دوسرے ممالک افغانستان میں انسانی حقوق کے احترام کے لیے دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں تو طالبان کی خود کو تسلیم کروانے کی خواہش ہی ان کے پاس ایک موثر ہتھیار ہے۔

فیصلہ پر ردعمل دیتے ہوئے اقوام متحدہ کےلئے طالبان حکومت  کے نامزد مندوب سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ قانونی اصولوں اور انصاف پر مبنی نہیں ہے کیوں کہ اس نے افغانستان کے لوگوں کو ان کے جائز حق سے محروم رکھا ہوا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube