Wednesday, January 19, 2022  | 15 Jamadilakhir, 1443

بھارت:اب متھرا کی شاہی مسجد بھی انتہاپسندوں کےنشانےپر

SAMAA | - Posted: Nov 29, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Nov 29, 2021 | Last Updated: 2 months ago

بھارت میں ہندو انتہاپسند تنظیموں نے مسلمانوں کی ایک اور تاریخی مسجد کو مندر میں تبدیل کرنے کی ٹھانتے ہوئے  ریاست اتر پردیش کی شاہی مسجد میں شری کرشن کی مورتی رکھنے کا اعلان کردیا جس کے بعد حکام نے پورے علاقے میں دفعہ 14نافذ کردیا ہے۔

ہندو تنظیموں نے مغل بادشاہ اورنگ زیب کے دور میں تعمیر ہونے والی تاریخی مسجد میں 6 دسمبر کے روز مورتی رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ سن 1992 میں 6 دسمبر کے دن ہی ہندوؤں نے بابری مسجد کو شہید کردیا تھا جہاں اب ایک مندر تعمیر ہو رہا ہے۔

ڈی ڈبلیو کے رپورٹ کے مطابق حکام نے علاقے میں دفعہ 144 نافذ کرکے 4 افراد سے زیادہ کے اجتماع پر پابندی عائد کردی ہے اور اس سلسلے میں گرفتاریوں کا بھی دعویٰ کردیا ہے۔ پولیس کے مطابق متھرا میں کسی کو امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

حکام کے مطابق سب سے پہلے ایک ہندو انتہا پسند تنظیم نے مسجد کے اندر بھگوان کا مجسمہ رکھنے کی درخواست دی تھی جسے مسترد کر دیا گيا تھا۔ اس کے بعد اتوار کے روز ایک اور ہندو تنظیم نے مسجد کو وہاں سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی مارچ کا اعلان کر دیا۔

ہندو تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ اسی عید گاہ والے مقام پر پہلے ایک مندر تھا۔ تاہم جب پولیس نے مہا سبھا کو اجازت نہیں دی تو نارینی سینا نے مسجد کو وہاں سے ہٹانے کے مطالبے کے ساتھ ایک احتجاج کا اعلان کر دیا جس کے بعد انتظامیہ حرکت میں آئی اور سکیورٹی میں اضافے کا اعلان کیا گيا۔

ریاست اتر پردیش کے ضلع متھرا میں شاہی عید گاہ کی تعمیر مغل شہنشاہ اورنگ زیب نے کروائی تھی جو ایک مسجد ہونے کے ساتھ عید گاہ بھی ہے اور اسی مناسبت سے اسے شاہی عید گاہ کہا جاتا ہے۔

لیکن بھارت میں سخت گیر ہندو تنظیموں کا ایک زمانے سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ ایودھیا کی بابری مسجد، متھرا کا تاریخی عیدگاہ اور بنارس کی گيان واپی مسجد مندروں کو توڑ کر بنائی گئی تھیں اس لیے وہ اس پر دوبارہ مندر تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ ان تینوں مساجد کا تعلق ریاست پو پی سے ہے۔

اس میں سے  بابری مسجد کو پہلے ہی منہدم کیا جا چکا ہے اور بھارتی سپریم کورٹ کی اجازت سے وہاں مندر کی تعمیر کا کام جاری ہے۔ اب ان تنظیموں کی نظر متھرا کی عیدگاہ اور بنارس کی گیان واپی مسجد پر ہے جنہیں مغل شہنشاہ اورنگ کے دور میں تعمیر کیا گيا تھا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube