Monday, January 24, 2022  | 20 Jamadilakhir, 1443

طالبان کی صفوں میں بدکردار افرادشامل ہوگئے،تطہیرشروع

SAMAA | - Posted: Nov 23, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Nov 23, 2021 | Last Updated: 2 months ago

افغان وزیرداخلہ سراج الدین حقانی کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی 20 سالہ جدوجہد اور اللہ کی مدد سے ملک میں فساد کا خاتمہ کرکے قابض قوتوں کو ملک سے نکالنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔

منگل کو طالبان جنگجو اور تحریک کے دیگر افراد کے نام اپنے پیغام میں سراج الدین حقانی کا کہنا تھا کہ جہاد کے شروع میں گنتی کے چند لوگ تھے لیکن اللہ کی مدد سے ہمارا مقصد کامیابی سے ہمکنار ہوا، ہمیں زیادہ نہیں بلکہ مخلص لوگوں کی ضرورت ہے۔

افغان وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ طالبان کے صفوں میں فسادی اور بدکرادر لوگ شامل ہوگئے ہیں جو اسلامی امارت کے نام کو بدنام کررہے ہیں اس لیے ایک کمیشن تشکیل دیا گیا ہے تاکہ ایسے فسادی لوگوں کو تحریک سے نکالا جاسکے۔

سراج الدین حقانی کا کہنا تھا کہ مذکورہ کمیشن وقت کی اہم ضرورت تھی اس لیے تحریک سے وابسطہ تمام لوگوں کو ان سے بھرپور تعاون کرنا چاہیے تاکہ سازشی اور فسادی افراد سے تحریک کو پاک کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ ہم طالبان تحریک میں نئے لوگوں کے شمولیت کے خلاف نہیں ہے مگر ان کو مروجہ طریقہ کار کے مطابق باقاعدہ تعلیم و تربیت کے بعد ہی شامل کیا جاسکتا ہے۔ طالبان رہنما کا کہنا تھا کہ ایسے لوگوں کو پہلے طالبان کے زیر اہتمام اکیڈمی میں داخلہ لے کر اپنی اصلاح کرنی ہوگی تاکہ انہیں طالبان کے اعراض و مقاصد سے آگاہی مل سکے۔

سراج الدین حقانی کا کہنا تھا کہ ذاتی تعلقات کے بنیاد پر ایسے لوگوں پر پردہ ڈالنے والے ساتھی تحریک کا نقصان کررہے ہیں اس فعل سے نہ صرف عوام کا نقصان ہوگا بلکہ اللہ بھی ناراض ہوگا۔

خیال رہے کہ طالبان کے عبوری حکومت نے طالبان میں شامل غیرمتعلقہ لوگوں کو تحریک سے نکالنے کے لیے مفتی لطیف اللہ حکیمی کے سربراہی میں ایک کمیشن تشکیل دیا ہے جس نے ملک بھر میں اس سلسلے میں انکوائری کا آغاز کردیا ہے۔

تین دن قبل کابل میں سیکیورٹی حکام سے ملاقات میں طالبان کلیئرنس کمیشن کے سربراہ مفتی لطیف اللہ حکیمی کا کہنا تھا کہ نظام کو برقرار رکھنے کے لیے صفوں کو صاف کرنے کی ضرورت ہے۔

مفتی لطیف اللہ حکیمی نے مختلف صوبوں میں فوجی اور سیکورٹی حکام کو بتایا کہ نظم و نسق برقرار رکھنے کا سب سے اہم اور پہلا قدم صفوں کو صاف کرنا ہے اور امارت اسلامیہ افغانستان کسی بھی بدعنوان شخص کو نظام میں داخل نہیں ہونے دے گی۔ صوبوں کے حکام کو چاہیے کہ وہ اپنی صفوں میں ایسے لوگوں کو تعینات کریں جو مذہب، نظام، ملک اور عوام کے وفادار ہوں۔

اس موقع پر وزارت دفاع کے فرسٹ ڈپٹی چیف آف سٹاف مولوی حمداللہ منصوری نے کہا کہ ملک کی مکمل آزادی کے بعد امارت اسلامیہ افغانستان نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنی عسکری صفوں اور صفوں کو منظم کیا جائے اور انہیں شرپسند عناصر اور شر پسند عناصر سے آزاد کیا جائے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے افغان وزارت دفاع کے حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ مذکورہ کمشین نے اب تک 200 افراد کی شناخت کی ہے اور انہیں اپنی صفوں سے نکال دیا ہے۔

افغان وزارت دفاع  کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کمیشن امارت اسلامیہ کے بلدیاتی اداروں، دفاعی اور سیکورٹی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر تشکیل دیا گیا تھا، جس کا مقصد مرکز میں متعصب، چوری کرنے والے اور نااہل افراد کی نشاندہی کرنا تھا۔

امارت اسلامیہ افغانستان کی وزارت دفاع اور وزارت داخلہ  نے کہا ہے کہ انہوں نے صفوں کی صفائی کا سلسلہ شروع کیا ہے اور بہت سے ایسے لوگوں کو اپنی صفوں سے نکال دیا ہے جو ان کے اصولوں کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔

اس سے قبل افغان عبوری حکومت کے وزیر دفاع بھی طالبان جنگجوؤں کو قیادت کی پالیسوں سے روگردانی پر تنبیہ کرچکا ہیں۔ ملایعقوب نے اعتراف کیا تھا کہ حالیہ دنوں میں کچھ واقعات ہوئے ہیں جن میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو تین لوگوں کو انتقاماً قتل کیا گیا۔

افغان عبوری وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اسلامی امارت نے عام معافی کا اعلان کیا ہے اور جب ایک دفعہ معافی کا اعلان ہوگیا تو پھر کسی بھی شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ انتقام لے سکے اور اگر کسی کا کسی سے انفرادی تنازع ہے تو وہ اسے قانون کے حوالے کرے پھر اگر وہ حق پر ہوا تو سرکاری حکام اسے اس کا حق دلوائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ذاتی حیثیت میں کسی کو مارنا امارت کی پالیسی بھی نہیں اور شرعی لحاظ سے بھی جائز نہیں ہے۔ ملا یعقوب کا کہنا تھا کہ اس قسم کے واقعات سے ہمارے بڑے مقاصد کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اسلامی امارات نے سابقہ حکومت کے فوجیوں، جنگی جرائم میں ملوث کمانڈرز اور ہمارے لوگوں کو شہید و ہراساں کرنے والے لوگوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا ہے لہذا کسی بھی مجاہد کو اب یہ حق حاصل نہیں کہ ایسے لوگوں کے خلاف انتقامی کارروائی کرے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube