Monday, January 24, 2022  | 20 Jamadilakhir, 1443

سابق پولیس چیف قندھارجنرل تادین آجکل کس حال میں ہیں؟

SAMAA | - Posted: Nov 18, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Nov 18, 2021 | Last Updated: 2 months ago

پاکستان مخالفت بیانات کےلیے مشہور قندھار کے سابق پولیس چیف جنرل تادین خان اچکزئی کی نئی تصاویر منظر عام پر آگئی ہیں۔

سقوط کابل کے بعد فوری بعد اور اس سے قبل سابقہ اشرف غنی حکومت کے تمام سول اور عسکری حکام مختلف زمینی راستوں اور اتحادی افواج کے جہازوں میں ملک سے فرار ہوگئے تھے جن تصاویر اب مختلف ممالک سے وقتتا بوقتا سوشل میڈیا کی زینت بنتی ہے۔

امرللہ صالح اور حمداللہ مجب کے بعد اب بعض افغان نیوز ویب سائٹس اور سوشل میڈیا حلقوں میں جنرل تادین خان کی تصاویر بھی گردش کرنے لگی ہے جس میں وہ متحدہ عرب امارت میں کسی کے گھر کھانے پر بیٹھے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔

بھارت نواز جنرل تادین خان کے بارے ابتدائی اطلاعات یہ آئی تھی کہ وہ انڈیا فرار ہوگئے ہیں مگر بھارت کے امیگریشن قوانین کے سبب شائد ان کےلئے وہاں زیادہ دیر رکنا ممکن نہیں تھا اس لیے اس کے بعد انہوں نے متحدہ عرب امارت کے راہ لی جہاں سابق افغان صدر پہلے سے رہائش پزیر ہیں۔

اس سے قبل سابق افغان نائب صدر امراللہ صالح کی بھی یواے ای میں تصاویر منظر عام پر آئی تھی۔

طالبان حمایتی سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شیئر کی جانی والی تصاویر کے متعلق کہا جارہا ہے کہ وہ اس وقت دبئی میں ہیں اور وہاں کے کسی مقامی بینک میں افغانستان سے لے جانے والی رقم کو جمع کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

کچھ دن قبل افغانستان کے قومی سلامتی کے سابق مشیر حمد اللہ محب کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی

جس میں وہ لندن کے کسی پوش علاقے میں لگژری گاڑی میں بیٹھے نظر آرہے ہیں۔

جنرل تادین خان اس سے اگست 2020 میں متحدہ عرب امارت میں 5 ملین ڈالرز رقم منی لانڈرنگ کرتے ہوئے گرفتار بھی ہوگئے تھے جنہیں بعد ازاں مبینہ طور پر بھارتی کوششوں سے رہائی ملی تھی۔

تادین خان پر متعدد دفعہ سادہ افغان عوام کو اکساکر چمن بارڈر پر ہنگامہ آرائی کرنے اور متعدد دفعہ کراس بارڈر فائرنگ کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں جبکہ اپنے انٹرویوں میں بھی وہ اپنے انہیں خیالات کا کھل کر اظہار کیا کرتے تھے۔

واضح رہے کہ قندھار پولیس چیف کے عہدے پر تعیناتی سے قبل تادین خان کا نہ کوئی ملٹری بیک گراؤنڈ تھا اور نہ ہی کوئی مطلوبہ ٹریننگ ہوئی تھی تاہم طاقتور قبائلی پشت پناہی کے باعث افغان حکومت کو انہیں آئی جی پی تعینات کرنا پڑا تھا۔

جنرل تادین خان سابق افغان پولیس چیف جنرل عبدالرازق اچکزئی کا بھائی ہیں جو طالبان کے ایک حملے میں جاں بحق ہوگئے تھے اور ان کے مرنے کے بعد تادین خان جو اس وقت تک چمن بارڈر پر دوکان چلایا کرتے تھے ان کی منصب پر براجمان ہوگئے۔

طالبان کے دو درجن حملوں میں بچ جانے والے قندھار پولیس کے سربراہ جنرل عبدالرازق اکتوبر 2018 میں طالبان کے ایک خودکش حملے میں ہلاک ہوگئے تھے جس میں ان کے علاوہ افغان انٹیلی جنس اعلیٰ عہدیدار بھی شامل تھے۔

جنرل عبدالرازق طالبان کے ساتھ پاکستان کے خلاف بھی انتہائی سخت موقف رکھنے کےلئے مشہور تھے جن پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا بھی الزام تھا لیکن افغان قوم پرست طبقے میں انہیں ایک ہیرو کا درجہ حاصل تھا۔

طالبان کے حملوں میں ان کے والد اور چچا سمیت ان کے قریبی رشتہ دار بھی نشانہ بنے تھے جبکہ وہ خود بھی طالبان کے قید میں رہ چکے تھے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube