Friday, January 21, 2022  | 17 Jamadilakhir, 1443

سابقہ افغان کمانڈر ایران میں جعلسازی کے الزام میں گرفتار

SAMAA | - Posted: Nov 16, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Nov 16, 2021 | Last Updated: 2 months ago

افغانستان کے صوبہ فاریاب سے تعلق رکھنے والے سابق افغان جنگجو کمانڈر اور جنرل عبدالرشید دوستم کے معاون نظام الدین قیصری کو ایران میں جعلی سفری دستاویزات بنانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔

ایران کے خارجہ و پناہ گزینوں کے امور کے سربراہ مہدی محمودی نے بتایا کہ قیصری خود غیر قانونی طور پر ایران آئے تھے اور افغانوں کے لیے جعلی دستاویزات بنانے میں ملوث تھے۔

محمودی نے کہا کہ نظام الدین قیصری کے تہران اور کرج شہر میں 3 مختلف دفاتر تھے جہاں وہ افغان مہاجرین کے لیے دستاویزات تیار کرتے تھے جس کی بھاری قیمت وصول کی جاتی تھی۔

نظام الدین قیصری کو طالبان کے 15 اگست کو افغانستان پر قبضے کے چند دن بعد گرفتار کیا گیا تھا تاہم پھر انہیں رہا کر کردیا گیا تھا جس کے بعد وہ ایران چلے گئے تھے۔

نظام الدین قیصری سابقہ افغان حکومت کے حامی کمانڈر تھے جن پر  زمینوں پر قبضوں، عام شہریوں کے خلاف طاقت کے ناجائز استعمال اور غیر قانونی طریقے سے مسلح گروپ بنانے کے الزمات ہیں۔

افغان مرکزی حکومت سے سن 2019 میں اختلافات کے بعد شمالی افغانستان میں ایک جنگجو تنظیم کے بدنام زمانہ سربراہ نظام الدین قیصاری کو گرفتار کرنے کے لیے کی جانے والی کارروائی میں کم از کم 8 افراد ہلاک ہو گئے تھے افغان نیشنل آرمی کی یہ کارروائی 24 گھنٹوں تک جاری رہی تاہم سیکیورٹی فورسز نظام الدین قیصری کو گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی تھی۔

 اس سے قبل سن 2018 میں نظام الدین قیصاری کو افغان فوج کے ساتھ ہونے والے ایک تنازعے کے بعد گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ گرفتاری کے وقت ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے قومی سلامتی کے ایک اہم اجلاس میں دیگر شرکاء کو قتل کرنے کی دھمکی دی تھی۔

نظام الدین قیصاری گرفتاری کے بعد صوبہ فریاب میں کئی ہفتوں تک مظاہرے ہوئے تھے جس کے بعد انہیں خصوصی شرائط کے تحت 2018ء میں رہا کر دیا گیا تھا۔

طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد قیصری کی گرفتاری عمل میں آئی تھی تاہم طالبان نے ان کو عام معافی کے اعلان کے تحت رہا کردیا تھا۔ طالبان رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ قیصری جنگی جرائم اور مخالفین کی لاشوں کی بے حرمتی میں بھی ملوث تھے۔

پچاس سالہ قیصری کئی برس باغبان اور تاجر رہے جس کے بعد انہوں نے مقامی پولیس میں شمولیت اختیار کی اور پولیس کے نائب سربراہ کے ساتھ اپنے کام کا آغاز کیا تاہم انہیں ایک عوامی بغاوت کے نتیجے میں انہیں شہر کا پولیس چیف مقرر کیا گیا تھا۔

نظام الدین قیصری کا شمار جنرل رشید دوستم کے قریبی رفقاء میں ہوتا تھا جو تقریباً 4 سال تک فاریاب پولیس کا سربراہ رہا۔ کہا جاتا ہے نظام الدین قیصری عبدالرشید دوستم کے ساتھ ان کے تمام جرائم میں شریک رہے ہیں۔

واضح رہے کہ عبدالرشید دوستم افغان جنگ کے دوران ایک ازبک ملیشیا کے کمانڈر تھے جنہوں نے 80 کے دہائی میں صرف مجاہدین کے خلاف لڑائی میں حصہ لیا تھا جبکہ 90 کی دہائی میں طالبان کے خلاف لڑائی میں ان پر طالبان قیدیوں کے قتل عام کا بھی الزام ہے۔

عبدالرشید دوستم گزشتہ 4 دہائیوں سے افغانستان کی جنگ اور سیاست دونوں میں پیش پیش رہے ہیں۔ اُن پر سن 2001 میں ہزاروں طالبان قیدیوں کو  قتل کرنے اور اپنے سیاسی حریفوں کو اغوا اور جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ دیگر سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کا سامنا رہا۔

افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق سن 2001 میں جنرل دوستم نے مبینہ طور پر طالبان کے قیدیوں کو کنٹینرز میں گھنٹوں تک بند رکھا جس کے نتیجے میں دم گھٹنے سے سینکڑوں قیدی جاں بحق ہوئے۔ بعض رپورٹس کے مطابق ان کنٹینرز میں زندہ بچ جانے والوں کو جنرل دوستم کے ساتھیوں نے زندہ دفن کیا تھا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube