Friday, January 21, 2022  | 17 Jamadilakhir, 1443

طالبان اور حقانی گروپ کے درمیان حالیہ تصادم کیوں ہوا؟

SAMAA | - Posted: Nov 8, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Nov 8, 2021 | Last Updated: 2 months ago

طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد سے ہی حقانی نیٹ ورک اور طالبان کے  قندھاری گروپ کے درمیان اختلافات کی خبریں عالمی ذرائع ابلاغ میں گردش کرتی رہی ہیں تاہم طالبان کی طرف سے ایسی خبروں کی ہر دفعہ تردید کی جاتی رہی ہے۔ کسی بھی تحریک میں اختلافات یا اختلاف رائے اگرچہ ایک فطری عمل ہے مگر جب تحریک مسلح ہو تو ایسی صورت میں ان کے اختلافات زیادہ شدید ہونے کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا۔

افغانستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ورلڈکپ کے ایک اہم میچ سے قبل افغان کرکٹ ٹیم نے اپنے آفیشل فیس بک پیج سے اعلان کیا تھا کہ طالبان حکام نے عزیراللہ فضلی کی جگہ میرویس اشرف کو افغان کرکٹ بورڈ کا سربراہ نامزد کردیا ہے تاہم کچھ ہی گھنٹوں بعد افغان کرکٹ بورڈ کے پیج سے میرویس اشرف کی تقرری کی خبر کو ڈیلیٹ کردیا گیا۔

افغان کرکٹ بورڈ نے اپنے نئی اعلامیہ میں عزیراللہ فضلی کو افغان کرکٹ بورڈ کے سربراہ کے طور پر دبئی میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے حکام سے ملاقات کا اعلامیہ جاری کردیا جس یہ قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں کہ آخر کرکٹ بورڈ کے معاملے پر طالبان کے اندر کیا کھچڑی پک رہی ہے۔

سینئر افغان صحافی سمیع یوسفزئی نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر کہا کہ دراصل حقانی نیٹ ورک نے ملا حسن کے تحریری حکم سے افغان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر عزیراللہ فضلی کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جس سے ردعمل میں ملا برادر گروپ کے مسلح افراد نے کرکٹ بورڈ کے دفتر پر ھاوا بول دیا۔

سمیع یوسفزئی کے مطابق اس دوران دونوں گروپوں کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی اور عنقریب مسلح تصام کا بھی خدشہ تھا تاہم کرکٹ بورڈ کے حکام نے نئی تقرری کے حوالے سے کیا گیا ٹویٹ پھر خذف کرلیا۔

چیئرمین عزیز اللّہ فضلی کو طالبان نے ملک کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد افغانستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین تعینات کردیا تھا۔ جو اس سے قبل بھی اس منصب پر فرائض انجام دے چکے تھے۔

عزیز اللّہ فضلی سے قبل منصب پر براجمان حامد شنواری نے بھی اس وقت اپنی برطرفی کا الزام وزیرداخلہ سراج الدین حقانی کے چھوٹے بھائی انس حقانی پر لگایا تھا۔

واضح رہے کہ افغان کرکٹ بورڈ کا موجودہ سی ای او نصیب خان کا تعلق بھی حقانی نیٹ ورک سے ہے افغان کرکٹ بورڈ کے مطابق نصیب زدران ایک نوجوان اور قابل شخصیت ہیں جنہوں نے بزنس اور کمیونیکیشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی ہوئی ہے۔

نصیب خان کی تقرری کے وقت واشنگٹن پوسٹ نے اپنے ایک رپورٹ میں لکھا تھا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ افغانستان کرکٹ بورڈ کے نئے سربراہ سراج الدین حقانی کے رشتہ دار ہیں یا نہیں تاہم وہ زدران قبیلے سے ہیں۔

نصیب خان  کی تعیناتی کے پیچھے بھی طالبان کے اہم رہنما انس حقانی کا ہاتھ بتایا جاتا ہے جنہوں نے کابل میں آمد کے فورا بعد کرکٹ ٹیم سے ملاقات کی تھی اور انہیں کھیل جاری رکھنے کی یقین دہانی کروائی تھی۔

افغان صحافیوں کے مطابق افغان کرکٹ بورڈ کے موجودہ سی ای او حقانی نیٹ ورک کے ساتھ کافی عرصے سے منسلک تھے جنہوں نے تعیناتی کے بعد اپنا پرانا ٹویٹر اکاؤنٹ بھی بند کر دیا جس سے وہ اس پر حقانی نیٹ ورک کی سرگرمیوں کی تشہیر کیا کرتے تھے۔

حقانی نیٹ ورک کے بارے میں معلومات

سویت یونین کے خلاف لڑنے والے مختلف افغان جہادی گروپوں میں سے حقانی نیٹ ورک بھی ایک اہم جہادی گروپ تھا جس کی بنیاد جلال الدین حقانی نے 80 کی دہائی میں رکھی تھی۔

سویت یونین کے خلاف افغان جہاد کے وقت حقانی نیٹ ورک کو دیگر جہادی گروپوں کی طرح امریکا کی بھرپور مدد حاصل تھی تاہم امریکا میں 11 ستمبر 2001  کو ہونے والے حملے المعروف نائن الیون کے بعد اس گروپ کو بھی دہشت گردی کی فہرست میں شامل کر دیا گیا تھا۔

طالبان کے ظہور اور کابل پر قبضے کے بعد دیگر افغان جہادی گروپس کے برعکس انہوں نے طالبان کی حمایت کی تھی اور آج بھی یہ گروپ طالبان تحریک کا ایک اہم حصہ ہے۔

اس گروپ کو نیٹو اور اتحادی افواج کی جانب سے خطرناک اور انتہائی فعال گروپ تصور کیا جاتا ہے اور امریکی حکام کے مطابق نیٹو افواج پر ہونے والے اکثر بڑے حملوں میں اسی گروپ کا ہاتھ تھا۔

حکومت میں حقانی نیٹ ورک کا کردار

پندرہ اگست کو طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد سے بھی اس گروپ کے اہم اراکین خاصے سرگرم ہیں جبکہ کابل کی سیکیورٹی سمیت نئی انتظامیہ میں اہم عہدوں پر بھی حقانی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کی تقرری کا سلسلہ جاری ہے۔

حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی کے علاوہ نئی افغان حکومت میں 3 مزید وزراء کا تعلق حقانی نیٹ ورک سے ہے جن میں خليل الرحمن حقانی، عبدالباقی حقانی اور نجیب اللہ حقانی شامل ہیں۔

حقانی نیٹ ورک کے موجودہ سربراہ سراج الدین حقانی کو وزیرداخلہ، خليل الرحمن حقانی کو وزیر مہاجرین، عبدالباقی حقانی کو وزير تعلیم اور نجیب اللہ حقانی کو کمیونی کیشن اور ٹکنالوجی کا قلمدان سونپا گیا ہے۔

اس گروپ کے ایک اہم رکن عبدالباقی حقانی کو افغانستان کے ہائرایجوکیشن کی سربراہی سونپی گئی ہے جبکہ مولانا نعیم الحق حقانی کو اطلاعات اور کلچر ڈیپارٹمنٹ میں اہم عہدہ دیا جاچکا ہے جبکہ اس کے علاوہ متعدد اہم عہدوں پر اس گروپ سے تعلق رکھنے والے افراد کے لوگ تعینات ہیں جس میں افغان وزارت داخلہ اورخارجہ کے ترجمان بھی شامل ہیں۔

اگرچہ حقانی نیٹ ورک اس وقت طالبان کا حصہ ہے تاہم انہوں نے طالبان میں ضم ہونے کے باوجود اپنی ایک الگ شناخت قائم رکھی ہوئی ہے اور نیٹ ورک کی اپنی اندرونی تنظیم بھی موجود ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube