Tuesday, January 18, 2022  | 14 Jamadilakhir, 1443

طالبان اپنےبانی کے ہاتھوں تباہ کردہ مجسموں کےمحافظ بن گئے

SAMAA | - Posted: Nov 4, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Nov 4, 2021 | Last Updated: 2 months ago

طالبان نے تحریک کے بانی ملا محمد عمر کے دور حکومت میں افغانستان کےصوبے بامیان میں تباہ کیے گئے بدھا کے دیوقامت مجسموں کی باقیات اور دیگر ثقافتی ورثوں کا ہرصورت میں تحفظ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بامیان ثقافتی مرکز کے نگران سیف الرحمان محمدی نے اے ایف پی کو بتایا کہ ماضی میں امارت اسلامی نے مجسمے تباہ ضرور کیے تھے لیکن ان کے پاس یقیناً اس اقدام کی کوئی مناسب وجہ ہوگی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے کی مخالفت کرسکتے ہیں اور نہ ہی اس پر کوئی تنقید لیکن اب وعدہ کرتے ہیں کہ بامیان کی اس تاریخی یادگار کی حفاظت کی جائے گی۔

سیف الرحمان محمدی نے کہا کہ آثار قدیمہ کسی کے ذاتی ملکیت نہیں ہوتے بلکہ یہ افغانستان کے تاریخ کا حصہ ہیں اور ان کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔

طالبان حکومت نے بامیان کے اثارقدیمہ کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو سے بھی استدعا کی ہے کہ وہ اس کا انتظام سنبھالے لیکن بین الاقوامی ماہرین فی الحال اس کے حق میں نہیں ہیں۔

افغانستان میں بدھا کے مجسمے کہاں واقع ہیں؟

افغانستان کو چین اور ایران سے ملانے والی شاہراہ ریشم کے ارد گرد ماضی کی تہذیبوں کے آثار جا بجا بکھرے پڑے ہیں۔ انہی میں دارالحکومت کابل سے 130 کلومیٹر مغرب میں بامیان شہر بھی ہے جہاں پہاڑوں کو کھود کر گوتم بدھ کے 2 نایاب اور بلند قامت مجسمے دوسری صدی عیسوی بنائے گئے تھے۔

ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق پہلا مجسمہ 35 میٹر اونچا ہے جس کی تعمیر کا آغاز دوسری صدی عیسوی میں ہوا اور تکمیل تیسری صدی کے دوران ہوئی جبکہ سب سے بڑے 53 میٹر اونچے مجسمے کی تعمیر چوتھی اور پانچویں صدی کے دوران کی گئی۔

بدھا کے مجسموں کے آس پاس بودھ بھکشوؤں کے لیے سینکڑوں غار بھی کھودے گئے جن میں سے کئی ایک نہایت کشادہ اور بودھ تعلیمات کی خوبصورت تصاویر سے آراستہ تھے۔ ان کی باقیات بعض غاروں میں اب بھی موجود ہیں خاص طور پر دونوں بڑے مجسموں سے متصل گنبد نما کشادہ کمروں کی دیواروں اور چھتوں پر رنگین نقش و نگار بھی موجود ہیں۔

طالبان کو مجسمے توڑنے سے روکنے کے لیے پاکستان کی کوششیں

چھبیس فروری 2001 کو طالبان کی مجلس شوریٰ نے ایک فتویٰ جاری کیا تھا کہ افغانستان سے تمام بت اور غیر مسلموں کے دور کے آثار مٹا دیے جائیں۔ انہی میں بامیان کے یہ 2 مجسمے بھی شامل تھے۔ جب ملا عمر نے ان مجسموں کے تباہ کرنے کا حکم نامہ دیا تو دنیا کے کئی ممالک بشمول مسلمان ملکوں نے ان سے ایسا نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔

اقوام متحدہ نے بھی اس سلسلے میں ایک قرارداد پاس کی تھی جس میں مجسموں کو توڑنے کا فیصلہ ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا جبکہ یونیسکو نے ان مجسموں کو افغانستان سے باہر کے جانے بصورت دیگر ان کےسامنے دیوار کھڑی کرنے کی بھی پیشکش کی تھی۔

پاکستان کے اس وقت کے وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر بھی ایک وفد لے کر قندھار گئے جہاں ان کی وفود کی سطح پر ملاعمر سے ملاقات ہوئی۔ ابتدائی کلمات کے بعد انہوں نے بامیان مجسموں کے حوالے سے بات چیت شروع کی اور اپنی گفتگوکی شروعات سورہ انعام کی آیات سے کی “حکم خداوندی ہے کہ دوسروں کے معبودوں کو برا نہ کہو {گالی نہ دو} مبادہ وہ {بدلے میں } اپنی جہالت کی وجہ سے اللہ کو برا کہیں۔

بات آگے بڑھاتے ہوئے معین الدین حیدر کا کہنا تھا کہ تاریخ میں کئی بار مسلمانوں نے حکمت کی وجہ سے بتوں کو نہیں توڑا۔ جیسے عمرو بن العاصؓ نے جب مصر فتح کیا تو وہاں مجسموں کو تباہ نہیں کیا۔

معین الدین حیدر کا کہنا تھا کہ محمود غزنوی جیسے بت شکن بادشاہ نے بھی بامیان کے مجسموں کو چھوڑ دیا تھا۔ ابدالی اور غوری نے بھی ان مجسموں کو کچھ نہ کہا، یقیناً اس میں کوئی نہ کوئی حکمت تھی جس نے ان مجسموں کو 14 سو سال تک مسلمان حکمرانوں کو بامیان کےمجسمے توڑنے سے باز رکھا۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کے مذکورہ فتوے پر بہت سی اقوام کا ردعمل آیا ہے اور سب کا خیال ہے کہ موجودہ وقت میں ایسا فتویٰ نہیں آنا چاہیے۔

معین الدین حیدر کا کہنا تھا کہ بدھا کے مجسمے توڑنے کا معاملہ صرف افغانستان تک محدود نہیں رہے گا اور جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں ردعمل میں ان کی مساجد کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ یہودی اسی کا بہانہ بناکر ہیکل سلیمانی کی تعمیرنو کی بات بھی کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ اس معاملے میں دنیا کا پاکستان پر بھِی شدید دباؤ ہے کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم افغانستان کے قریب ہیں اور اس سلسلے میں ہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

معین الدین حیدر کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں چاپان، تھائی لینڈ اور کینیڈا نے پاکستان سے رابطہ کیا اور بعض لوگ طالبان قیادت سے بھی اس سلسلے میں ملنے کے خواہش مند ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس معاملے کے اثرات سارے دینا کے مسلمانوں پر پڑیں گے اس لیے یہ معاملہ مسلم دنیا کے علماء کرام کے سامنے رکھنا چاہیے۔

افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر سید ابرار حسین نے اپنی کتاب میں تفصیل سے اس واقعے کا ذکر کیا ہے۔ ابرار حسین لکھتے ہیں کہ وزیرداخلہ معین الدین حیدر کے تفصیلی دلائل کے بعد ملاعمر نے جواب میں مختصر گفتگو کی۔

طالبان کے بانی ملاعمر کا کہنا تھا کہ مجسمے توڑنے کا فیصلہ قومی سطح کے افغان قاضیوں اور مفتیوں نے دیا ہے اور ایسے فتووں پر نظرثانی نہیں کی جاتی۔ بدھ مذہب کے ماننے والے یہاں تعداد میں زیادہ تو نہیں مگر امکان ہے کہ مستقبل میں ان میں سے کچھ لوگ ان بتوں کی پرستش شروع کردیں۔

ملاعمر نے معین الدین حیدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر آپ کہتے ہیں کہ “ان کو کوئی نہیں پوجتا تو پھر اس معاملے پر اتنا شور شرابا کیوں ہے۔ دراصل پرستش کے مختلف انداز ہوتے ہیں”۔

انہوں نے کہا کہ محمود غزنوی یا دوسرے مسلمان حکمرانوں کے پاس انہیں مسمار نہ کرنے کی کوئی خاص وجہ نہیں تھی سوائے اس کے کہ یہ مجسمے بہت مضبوط تھے اور انہیں ڈائنامائٹ کے بغیر توڑنا بہت مشکل تھا۔

ملاعمر کا کہنا تھا کہ آپ نے قرآن مجید کے جس آیت کا ذکر کیا ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ انہیں گالیاں نہ دو ہم انہیں گالیاں نہیں دے رہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بت مسلمانوں کی کمزوری کا سبب بن سکتے ہیں ہم سے پوچھا جائے گا کہ جب تم مخالفین کو شکست دے سکتے تھے تو تم نے ان بتوں کو کیوں نہیں توڑا۔

مسلمانوں پر اس فیصلے کے اثرات سے متعلق ملاعمر کا کہنا تھا کہ کفار کسی بھی اقدام پر ردعمل دے سکتے ہیں انہیں اپنے اقدامات کے لیے کسی جواز کی ضرورت نہیں ہوتی مثلاً بابری مسجد کو مسمار کرنا کسی اسلامی اقدام کا ردعمل نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہم یہ سب کچھ اللہ کے رضا کے لیے کررہے ہیں اور اس میں تاخیر خدا کے نزدیک پسندیدہ عمل نہیں ہوگا۔

چودہ مارچ 2001 کو طالبان کے ترجمان نے اعلان کیا تھا کہ بامیان کو ان دیو قامت مجسموں سے پاک کر دیا جائے۔ امیر کا حکم ملتے ہی طالبان نے گولہ بارود اور ٹینکوں کے دہانے کھول کر مجسموں کو مسمار کرنے کا کام شروع کیا جو کئی ہفتے تک جاری رہا۔

یونیسکو نے سن 2003 کو ایک ڈیکلریشن جاری کیا جس کے تحت عالمی ثقافتی ورثے کو تباہ کرنے کا عمل جنگی جرم قرار دے کر بامیان کی وادی میں موجود بدھ آثار کو عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے ان کی بحالی کا ایک جامع پلان مرتب کیا جس کے تحت 2 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی لاگت سے تباہ ہونے والے بدھا کے ان مجسموں کی دوبارہ تعمیر کا آغاز کیا گیا تاہم 15 سال کی انتھک محنت کے بعد بھی بحالی کا کام تاحال جاری ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube