Monday, January 24, 2022  | 20 Jamadilakhir, 1443

کیاافغان کرکٹ ٹیم کی ورلڈکپ میں شرکت کاخرچہ کھلاڑیوں نےخوداٹھایا؟

SAMAA | - Posted: Oct 30, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Oct 30, 2021 | Last Updated: 3 months ago

افغانستان کی اسکاٹ لینڈ کے خلاف پہلے میچ کے بعد سوشل میڈیا اور بعض نیوز ویب سائٹس نے یہ خبریں دینی شروع کیں کہ افغانستان کرکٹ ٹیم کو ورلڈکپ میں شرکت کے لیے 2 افغان کھلاڑیوں راشد خان اور محمد نبی نے اسپانسر کیا ہے۔

انہی خبروں کے بعد دنیا بھر سے لوگوں نے سوشل میڈیا پر اس حوالے سے اظہار خیال کیا اور اکثریت نے افغان کرکٹ ٹیم کے  کپتان محمد نبی کو ایسے مبینہ شاندار کارنامے پر سراہا۔

اگرچہ طالبان کئی طرح کی عوامی تفریح کے مخالف ہیں لیکن کرکٹ کا کھیل ہمیشہ سے ان پابندیوں سے مستشنیٰ رہا ہے اور طالبان جنگجو اپنے موجودہ اقتدار سے پہلے دوران جنگ بھی قومی ٹیم کو کھیلتے دیکھنا پسند کرتے تھے۔

طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد پہلے ہی ہفتے میں طالبان کے ایک اہم رہنما انس حقانی نے کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں سے ملاقات کرکے ان کی خدمات کو نہ صرف سراہا تھا بلکہ ان کو اپنی حکومت کی طرف سے ہر قسم کے تعاون کا یقین بھی دلایا تھا جبکہ طالبان حکومت کے حکام کا موقت ہے کہ کرکٹ بورڈ کی تو بنیاد ہی امارت اسلامی یعنی طالبان کے پہلے دور حکومت میں رکھی گئی تھی۔

اگرچہ افغان کرکٹ بورڈ کا تازہ معاملے پر کوئی موقف سامنے نہیں آیا تاہم افغانستان کے کرکٹ شائقین کی اکثریت نے ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

افغانستان نے متحدہ عرب امارات میں منعقدہ اپنے ٹی 20 ورلڈ کپ کے میچ میں اسکاٹ لینڈ کو شکست دی تھی جو طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ٹیم کی پہلی بڑی فتح ہے۔

افغانستان کرکٹ ٹیم کی جیت کے بعد طالبان کے تمام اعلیٰ سطح کے رہنماوں اور ترجمانوں نے افغان کرکٹ ٹیم کو مبارکباد دی جس میں انس حقانی،ذبیح اللہ مجاہد،قاری سعید خوستی اور سہیل شاہین شامل ہیں۔

واضح رہے کہ اسکاٹ لینڈ کے خلاف افغانستان کی جیت پر نہ صرف طالبان رہنماؤں نے مبارکباد دی
بلکہ سابقہ اشرف غنی حکومت کے اہم عہدیداروں اور وزیروں نے بھی کرکٹ ٹیم کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ٹیم کو سراہا جس سے بحیثیت مجموعی افغان قوم کی کرکٹ سے محبت کا ظہار ہوتا ہے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کا کہنا ہے کہ افغانستان آئی سی سی کا فل ممبر ملک ہے اور ایونٹ میں ان کی شرکت معمول کے مطابق ہے۔

آئی سی سی کے قائم مقام سی ای او جیف ایلارڈائس کا کہنا ہے کہ افغانستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد سے ہم افغان کرکٹ بورڈ کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ہماری ذمہ داری افغان کرکٹ بورڈ کو سپورٹ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان میں حکومتی تبدیلی پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس حوالے سے ورلڈ کپ کے بعد بورڈ  اجلاس میں مزید غور کیا جائے گا۔

سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کراچی سینئر اسپورٹس جرنسلٹ اکبرعلی کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر مذکورہ خبروں میں صداقت اس لیے نہیں ہوسکتی کیوں کہ آئی سی سی کا رابطہ ہمیشہ متعلقہ ملک کے کرکٹ بورڈ سے ہوتا ہے۔

اکبرعلی کا کہنا تھا کہ ایونٹ میں شرکت کے لیے کسی بھی ٹیم کو حکومت یا انفرادی شخصیت کی معاشی معاونت کی ضرورت اس لیے بھی نہیں ہوتی کہ اس سلسلے میں ایونٹ میں شرکت کی مد میں آئی سی سی تمام کرکٹ بورڈز کو لاکھوں ڈالرز فراہم کرتی ہے۔

سینئر اسپورٹس اینکر آصف خان کا کہنا تھا کہ میں ان خبروں کی تردید یا تصدیق تو نہیں کرسکتا تاہم آئی سی سی کا رابطہ ہمیشہ بورڈز سے ہی ہوتا ہے کسی انفرادی شخصیت سے نہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات یہاں تو درست ہوسکتی ہے کہ محمد نبی یا راشد خان نے انفرادی سطح پر مالی طور پر کمزور افغان کرکٹر کی مدد کی ہوں مگر ایونٹ میں شرکت کےلئے آئی سی سی تمام ممبرز بورڈ کی مالی طور پر خود سپورٹ کرتی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube