Monday, December 6, 2021  | 30 Rabiulakhir, 1443

سرحدوں سے متعلق چین کی نئی قانون سازی پر بھارت کی تشویش

SAMAA | - Posted: Oct 28, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Oct 28, 2021 | Last Updated: 1 month ago

چین کی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق 23 اکتوبر کو این پی سی کی قائمہ کمیٹی نے لینڈ بارڈر قانون کو منظور کیا تھا۔ قانون میں کہا گیا ہے کہ چین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت مقدس اور ناقابل تسخیر ہیں۔

مذکورہ قانون میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ چین زمینی سرحدوں کی حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات کرے گا اور کسی بھی ایسی کارروائی کو روکنے اور ان کا مقابلہ کرے گا جس سے علاقائی خودمختاری اور زمینی سرحدوں کو نقصان پہنچے۔

قانون غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے والے لوگوں کے خلاف پولیس کو ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

چینی سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز کے مطابق نئے قانون کا مقصد انڈیا کے ساتھ گزشتہ 17 ماہ سے جاری سرحدی تنازعے کے پس منظر میں قومی سلامتی کو بہتر بنانا ہے۔ دونوں ممالک نے جون 2020 سے گلوان وادی میں ہونے والے مہلک تصادم کی وجہ سے اس خطے میں اپنی اپنی افواج کی تعداد بڑھا دی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے ایک رپورٹ کے مطابق چین کی زمینی سرحد 14 ممالک سے ملتی ہے جن میں افغانستان، بھوٹان، بھارت، قازقستان، کرغیزستان، لاؤس، منگولیا، میانمار، نیپال، شمالی کوریا، پاکستان، روس، تاجکستان اور ویت نام ہیں۔ اس وقت انڈیا اور بھوٹان کی سرحد ایک متنازع علاقہ ہے۔

چینی اور انڈین فوجی کمانڈروں نے 10 اکتوبر کو سرحدی تعطل کو طے کرنے کے لیے بات چیت کا تازہ ترین دور منعقد کیا تھا جو ناکامی سے دوچار ہوا تھا اور دونوں فریقوں نے بات چیت کی ناکامی کا ایک دوسرے پر الزام لگایا۔

چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے رپورٹ کے مطابق بھارت نے امریکا کے ساتھ اتفاق کرتے ہوئے موقع پرست اور جارحانہ پالیسیاں اپنانے کی کوشش کی تاکہ چین کی سرحد پر امن کو بار بار خراب کیا جائے۔

رپورٹ کے مطابق لینڈ بارڈر قانون کے متعارف ہونے سے ہمارے فوجی اور عام شہریوں کو قانونی طریقے سے دشمن کا مقابلہ کرنے اور قومی خودمختاری کا مضبوط دفاع کرنے کے لیے بہتر اعتماد حاصل ہوا ہے۔

انڈیا کے ایک انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمز نے تبصرہ کیا کہ یہ قانون چین کی پیپلز لبریشن آرمی کی پالیسی کو مزید مضبوط بنانے کا موقعہ فراہم کرتا ہے تاکہ وہ سرحدی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کے ساتھ مل کر کام کرے، جیسے سرحد کے ساتھ تبت کے دیہی علاقے جو انڈیا، بھوٹان اور نیپال کے ساتھ چین کے لیے دفاع کی پہلی لائن کا کردار ادا کرتے ہیں۔

نئے قانون کے متعارف ہونے اور دونوں ممالک کے درمیان حالیہ فوجی مذاکرات کی ناکامی سے چین، انڈیا سرحد پر کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے۔ چینی میڈیا نے فوج کے قریبی ذرائع کے حوالے سے کہا تھا کہ چین نے انڈیا کے ساتھ اپنی سرحد پر 100 سے زیادہ جدید طویل فاصلے تک مار کرنے والے راکٹ لانچرز تعینات کیے ہیں۔

انڈیا کا چین کے نئے سرحدی قانون پر شدید ردعمل دیتے ہوئے انڈیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ چین کی جانب سے ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحد سے متعلق نیا قانون بنانے کے یکطرفہ اقدام کو قبول نہیں کرے گا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان ایل اے سی پر امن برقرار رکھنے اور سرحد کے انتظامی امور سے متعلق معاہدے پہلے سے ہی موجود ہیں اور انڈیا اس میں کسی بھی یکطرفہ تبدیلی کو قبول نہیں کرے گا۔

انڈیا نے اپنے بیان میں چین پر شدید تنقید کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ ’ہم توقع کرتے ہیں کہ چین نئے قانون کے تحت کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائے گا جس سے انڈیا اور چین سرحد کی صورتحال یکطرفہ طور پر بدل جائے۔

یاد رہے کہ چند دن قبل چین کے سب سے اعلیٰ قانون ساز ادارے نیشنل پیپلز کانگریس کی ایک قائمہ کمیٹی نے قومی سطح پر ایسا پہلا قومی قانون منظور کیا تھا جس میں چین کے 14 ہمسایہ ممالک سے ملنے والی 22 ہزار کلومیٹر طویل سرحد کی حفاظت اور سکیورٹی کی تفصیلات طے کی گئی ہیں۔

نیا قانون چینی فوج کی سرحدوں کے سلامتی کے انتظامات، ہمسائیوں کے ساتھ تنازعات طے کرنے، سرحدوں کو بند کرنے کے اختیارات اور غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے والوں کے خلاف سرحدی پولیس کے اختیارات کو ایک باقاعدہ رسمی شکل دیتا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube