Friday, December 3, 2021  | 27 Rabiulakhir, 1443

افغانستان کی نصف آبادی نومبرسےشدید غذائی قلت جھیلےگی، اقوام متحدہ

SAMAA | - Posted: Oct 27, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Oct 27, 2021 | Last Updated: 1 month ago

اقوام متحدہ کے ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان کی نصف سے زیادہ آبادی یعنی 2 کروڑ 28 لاکھ افراد کو نومبر سے شدید غذائی قلت کا سامنا ہوگا۔

فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن،اور ورلڈ فوڈ پروگرم نے ایک مشترکہ تحقیقی جائزے میں کہا ہے کہ خشک سالی، تنازعات اور اقتصادی انحطاط کے مشترکہ اثرات نے زندگیوں، معاش اور افغانیوں کی خوراک تک رسائی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خطرے میں مبتلا افراد میں سے32 لاکھ وہ بچے ہیں جن کی عمر 5 سال سے کم ہے جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ سال کے اختتام تک غذا کی شدید قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔

وائس آف امریکا کی رپورٹ کے مطابق ورلڈ فوڈ پروگرام ڈبلیو ایف پی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیوڈ بیسلی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کا بحران اس وقت دنیا کے بد ترین بحرانوں میں شامل ہے۔

خیال رہے کہ عنقریب سخت موسم سرما کے دوران افغانستان کے ان علاقوں کا باقی دنیا سے رابطہ منقطع ہو جائے گا جہاں منجمد کردینے والی سردی کے مہینوں میں زندہ رہنے کے لیے لوگ انسانی ہمدردی کی امداد پر شدت سے انحصار کرتے ہیں۔

اگست میں طالبان نے مغربی حمایت یافتہ حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد افغانستان کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ جس کے بعد امریکا اور دیگر مغربی ممالک کی جانب سے کابل پر اقتصادی پابندیوں کے نتیجے میں طالبان کی تقریباً 10 ارب ڈالر کے افغان اثاثوں تک رسائی روک دی گئی۔

پابندیوں نے اقتصادی بدحالی کے امکانات کو بڑھا دیا ہے جو مبصرین کے مطابق لاکھوں لوگوں کو درپیش انسانی بحران کو مزید بد تر کر دے گی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube