Monday, December 6, 2021  | 30 Rabiulakhir, 1443

کیا امریکا نےاپنی فلسطین مخالف پالیسی تبدیل کردی

SAMAA | - Posted: Oct 27, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Oct 27, 2021 | Last Updated: 1 month ago

بائیڈن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کی سخت مخالف ہے۔

مشرق وسطیٰ سے متعلق امریکا کی سابقہ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی سے انحراف کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس نے منگل 26 اکتوبر کو اپنے ایک اہم بیان میں کہا کہ اسے مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیل کی جانب سے بستیوں کی تعمیر کے سلسلے میں شدید فکر لاحق ہے۔

صدر جو بائیڈن کی نئی انتظامیہ اسرائیل کو اس سے قبل بھی متعدد بار خبردار کر چکی تھی کہ وہ فلسطین کے مقبوضہ علاقوں کی سرزمین پر اپنی بستیوں کی تعمیر کو روکے۔ اس تناظر میں اسے امریکی پالیسی میں ایک بنیادی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو ٹرمپ انتظامیہ کی اس پالسی سے یکسر مختلف دکھائی دے رہی ہے جس میں نئی بستیوں کی تعمیر کی کھل کر حمایت کی جاتی تھی۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہم بستیوں کی توسیع کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں جو کہ کشیدگی کم کرنے اور امن کو یقینی بنانے کی کوششوں سے قطعی طور پر مطابقت نہیں رکھتی اور اس سے دو ریاستی حل کے امکانات کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

صحافیوں سے بات چیت میں نیڈ پرائس نے کہا کہ ہمیں اسرائیلی حکومت کی ہزاروں بستیوں کے یونٹس کو آگے بڑھانے کے منصوبے پر گہری تشویش لاحق ہے۔

واضح رہے کہ سابق امریکی صدر ٹرمپ مقبوضہ علاقوں میں بستیوں کی تعمیر کی کھل کر حمایت کیا کرتے تھے اور اس لحاظ سے یہ اقدام ایک بڑی پالیسی تبدیلی ہے۔

گزشتہ اتوار کو ہی اسرائیل فلسطین کے مقبوضہ علاقے غرب اردن میں تقریباً ساڑھے 13 سو مزید مکانات کی تعمیر کی منظوری دی تھی جس کے بعد امریکا نے یہ سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube