Friday, December 3, 2021  | 27 Rabiulakhir, 1443

ترکی: 10ممالک کے سفیروں کی ملک بدری کا فیصلہ واپس

SAMAA | - Posted: Oct 26, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Oct 26, 2021 | Last Updated: 1 month ago
Erdogan

فوٹو: اے ایف پی

ترک صدر رجب طیب اردوان نے امریکا، فرانس اور جرمنی سمیت مغربی ممالک کے 10 سفارتکاروں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا۔

ترک سرکاری نیوز ایجنسی ٹی آر ٹی کے مطابق ترک صدر نے بیان میں کہا ہے کہ ملک میں موجود سفیروں نے ایک نیا بیان جاری کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ہمارے ملک کے خلاف بہتان تراشی سے ایک قدم پیچھے ہٹ گئے ہیں۔

کابینہ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے ترک صدر کا کہنا تھا کہ امید ہے تمام سفیر آئندہ سے ترکی اندرونی معاملات پر گفتگو کرنے سے متعلق احتیاط کریں گے۔

رجب طیب اردوان نے کہا کہ ’’ہمارا مقصد قطعی طور پر بحران پیدا کرنا نہیں ہے بلکہ اپنی خود مختاری کا تحفظ کرنا ہے‘‘۔

اردوان نے واضح کیا کہ جو شخص ترکی کی آزادی اور ترک قوم کی حساسیت کا احترام نہیں کرتا وہ اس ملک میں نہیں رہ سکتا، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔

واضح رہے کہ مغربی مالک کے 10 سفیروں نے رواں ہفتے کے آغاز پر پیر کو ایک مشترکہ بیان جاری کیا تھا جس میں پیرس میں پیدا ہونے والے سماجی کارکن عثمان کاوالا کی مسلسل حراست پر تنقید کی تھی۔

بیان پر اردوان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے وزیر خارجہ کو حکم دیا ہے کہ ان 10 سفیروں کو جتنی جلدی ممکن ہو ناپسندیدہ شخصیت (پرسونا نون گراٹا) قرار دیا جائے۔ یہ اصطلاح کسی بھی شخص کو ملک بدر کرنے سے پہلے استعمال کی جاتی ہے۔

جن ممالک کے سفیروں کو ناپسندیدہ قرار دینے کا حکم دیا گیا تھا ان میں امریکا، کینیڈا، جرمنی، فرانس، ڈنمارک، فن لینڈ، ہالینڈ، نیوزی لینڈ، ناروے اور سویڈن شامل تھے۔

واضح رہے کہ 64 سالہ عثمان کاوالا 2017ء سے جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں، انہیں 2013ء میں حکومت مخالف مظاہروں اور 2016ء میں ناکام فوجی بغاوت سے تعلق کے الزامات میں سزا سنائی گئی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube