Saturday, December 4, 2021  | 28 Rabiulakhir, 1443

پاکستان سے شکست کے بعد بھارت میں کشمیری طلباء پرحملے

SAMAA | - Posted: Oct 25, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Oct 25, 2021 | Last Updated: 1 month ago

اتوار کی شب ٹی 20 ورلڈ کپ میچ میں پاکستان کے ہاتھوں بھارتی شکست کے بعد ہندوستان بھر میں تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ پر حملے شروع ہو گئے جن میں میں متعدد کشمیری طلبہ کے زخمی ہوگئے ہیں۔

کشمیر سے باہر بھارتی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ کو مختلف شہروں میں کبھی قوم پرستی، کبھی کشمیر کی آزادی تو کبھی کرکٹ میچ کے حوالے سے نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی بیشتر آبادی بھارت اور پاکستان کے درمیان میچ میں پاکستانی ٹیم کی حمایت کرتی ہے۔

ڈی ڈبلیو کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست پنجاب میں پولیس کے مطابق پہلا حملہ ضلع سنگرور میں واقع بھائی گرو داس انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں ہوا۔ کالج نے اس حملے سے متعلق ایک ویڈیو شیئر کی جس میں ہاسٹل کے اندر کشمیری طلبہ پر حملے کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی نوعیت کا دوسرا حملہ موہالی کے کھرار کی ریات بھارت یونیورسٹی میں ہوا اور وہاں بھی کشمیری طلبہ کو نشانہ بنایا گیا۔

کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی حکام سے کشمیری طلبہ کی مدد کی اپیل کی ہے۔

کشمیری طلبہ ایسوسی ایشن کے ترجمان ناصر کا کہنا ہے کہ جن کشمیری طلبہ پر حملہ ہوا انہیں مقامی لوگوں اور دیگر پنجابی طلبہ نے بچایا۔

ترجمان کے مطابق ریاست بہار، اتر پردیش اور ہریانہ کے طلبہ نے ان کے ہاسٹل کے کمروں میں گھس کر انہیں مارا پیٹا اور ہنگامہ آرائی کی۔

سنگرور کالج کے ایک طالب علم نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ ہاسٹل کی حفاظت کرنے والے گارڈز نے یو پی اور بہار کے طلبہ کو ان کے ہاسٹل میں اندر آنے کی اجازت دی جنہوں نے اندر داخل ہوتے ہی حملہ کر دیا۔

بھارتی میڈیا نے علاقے کے ایک سینئر پولیس افسر کے حوالے سے لکھا ہے کہ میچ کے دوران جب بھی پاکستانی کھلاڑی رن بنا رہے تھے اس وقت کشمیری طلبہ ان کی حمایت میں آواز بلند کر رہے تھے جبکہ اسی دوران آزادی کے نعرے بھی لگے۔

پولیس افسر کے مطابق جب میچ ختم ہوا تو یو پی اور بہار کے طلبہ کشمیری طلبہ کے کمروں میں گھس کر ان کے ساتھ مار پیٹ کی۔ اطلاعات کے مطابق لڑائی کے دوران سکھ طلبہ نے کشمیریوں کی مدد کی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube