Friday, December 3, 2021  | 27 Rabiulakhir, 1443

سابق افغان آرمی چیف مہاجرکیمپ میں بے بسی کی تصویر بن گئے

SAMAA | - Posted: Oct 25, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Oct 25, 2021 | Last Updated: 1 month ago

امریکی ریاست ورجینیا کے ایک مہاجر کیمپ میں فٹ پاتھ پر بیٹھے سابق افغان آرمی چیف ہیبت اللہ علی زئی کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے جو سوچ بچار میں گم عام لوگوں کی طرح فٹ پاتھ پر بے بسی کی تصویر  دکھائی دیے۔

تصویر پر افغان عوام کی جانب سے طرح طرح کے تبصرے کیے جارہے ہیں تاہم افغان سوشل میڈیا صارفین کی اکثریت اسے امریکا کی سنگدلی قرار دے رہی ہے اور سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ایک سابق آرمی چیف کے ساتھ بھی عام لوگوں جیسا رویہ کیوں روا رکھا جارہا ہے۔

سابق افغان حکومت کے حامیوں نے تو سابق آرمی چیف کیمپ کے بجائے امریکا کے کسی پوش علاقے میں منتقل کیے جانے کی خواہش کا بھی اظہار کیا ہے۔

خیال رہے کہ ہیبت اللہ علی زئی کو سقوط کابل سے چند دن قبل ترقی ملی تھی اور اس سے قبل وہ افغان اسپیشل فورسز کمانڈو یونٹ کے سربراہ تھے۔

سابق افغان صدر اشرف غنی نے  11 اگست کو  ولی احمد زئی کو آرمی چیف  کے عہدے سے ہٹانے کے بعد ان کی جگہ ہیبت اللہ کو نیا سپہ سالار مقرر کیا تھا۔

واضح رہے کہ ہیبت اللہ علی زئی سے قبل سابق افغان آرمی چیف ولی محمد احمد زئی کی ملک سے فرار کی غرض سے کابل ائیرپورٹ پر لائن میں کھڑے ہونے کی تصویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔

طالبان کے مقابلے میں افغان فوج کی پسپائی کی وجوہات

سقوط کابل کے فوراً بعد 20 اگست کو ترک نشریاتی ادارے کو انٹرویو کےدوران ایک اور سابق افغان آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ شیر محمد کریمی کا کہنا تھا کہ کرپشن اور سیاسی مداخلت نے افغان فوج کو برباد کیا۔

 شیر محمد کریمی نے انکشاف کیا کہ مسئلہ یہ نہیں کہ فوج لڑنا نہیں چاہتی تھی بلکہ انہیں لڑنے کا حکم ہی نہیں دیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغان سیاست دان تمام عسکری معاملات میں ملوث ہیں جبکہ فوج میں تقرریاں بھی سیاست دانوں کی مرضی سے ہوتی تھیں۔

افغانستان میں تین لاکھ سرکاری فوج کی پسپاہی کے بعد ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ تعداد صرف کاغذوں تک محدود تھی اور حقیقت میں افغان سپاہیوں کی تعداد اس سے کہیں کم تھی جبکہ طالبان کے حملے کے وقت نہ تو ان کو تنخواہ دی جا رہی تھی اور نہ ہی مناسب خوراک فراہم کی جا رہی تھی۔

برطانوی اخبار گارڈین میں 30 اگست کو امریکا میں انسداد بدعنوانی کے ایک حکومتی منصوبے میں شامل تحقیق کار زیک کوپلن کا مضمون شائع کیا گیا جس میں کہا گیا کہ افغانستان میں اکثریت گھوسٹ یا فرضی فوجیوں کی تھی جن کی تنخواہیں جنگجو کمانڈروں، افغان سیاسی اشرفیہ اور امریکی دفاعی ٹھیکیداروں کی جیبوں میں جا رہی تھیں۔

زیک کوپلن کا کہنا تھا کہ افغانستان کی سرکاری فوج زیادہ تر ایک سیراب کی ماند تھا جو قابض امریکی فوج کے سائے میں نظر آرہا تھا اور اس میں کوئی حیران کن بات نہیں تھی کہ افغان اس کے لیے کھڑے ہونے اور اپنی جانیں دینے کے لیے تیار نہیں تھے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube