Friday, December 3, 2021  | 27 Rabiulakhir, 1443

ترکی کا 10مغربی سفارتکاروں کو ’ناپسندیدہ‘ قرار دینے کا فیصلہ

SAMAA | - Posted: Oct 23, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Oct 23, 2021 | Last Updated: 1 month ago

ترک صدر رجب طیب اردوان نے امریکا، فرانس اور جرمنی سمیت مغربی ممالک کے 10 سفارتکاروں کو ناپسندیدہ قرار دینے کا حکم دیدیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مغربی مالک کے 10 سفیروں نے رواں ہفتے کے آغاز پر پیر کو ایک مشترکہ بیان جاری کیا تھا جس میں پیرس میں پیدا ہونیوالے سماجی کارکن عثمان کاوالا کی مسلسل حراست پر تنقید کی تھی۔

اردوان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے وزیر خارجہ کو حکم دیا ہے کہ ان 10 سفیروں کو جتنی جلدی ممکن ہو ناپسندیدہ شخصیت (پرسونا نون گراٹا) قرار دیا جائے۔ یہ اصطلاح کسی بھی شخص کو ملک بدر کرنے سے پہلے استعمال کی جاتی ہے۔

جن ممالک کے سفیروں کو ناپسندیدہ قرار دینے کا حکم دیا گیا ان میں امریکا، کینیڈا، جرمنی، فرانس، ڈنمارک، فن لینڈ، ہالینڈ، نیوزی لینڈ، ناروے اور سویڈن شامل ہیں۔

ترک صدر اردوان نے کہا ہے کہ بعض ممالک کے سفیر ترکی کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔

انہوں نے ان افراد پر ’نامناسب‘ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انہیں اس دن یہاں سے چلے جانا چاہئے جب وہ ترکی کو نہیں جانتے، ہم ان کی اپنے ملک میں مزید میزبانی نہیں کرسکتے۔

مغربی ممالک کے سفیروں نے اپنے بیان عثمان کاوالا کے معاملے پر ترکی سے ’’عدل اور فوری حل‘‘ کا مطالبہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ 64 سالہ عثمان کاوالا 2017ء سے جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں، انہیں 2013ء میں حکومت مخالف مظاہروں اور 2016ء میں ناکام فوجی بغاوت سے تعلق کے الزامات میں سزا سنائی گئی۔

واضح رہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے ترکی پر دباؤ میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، گزشتہ روز فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے منی لانڈرنگ، دہشت گردوں کی مالی معاونت سمیت دیگر معاملات پر ترکی کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

یوریشیا گروپ کا کہنا تھا کہ رجب طیب اردوان ترک معیشت کو بحران میں دھکیلنے کے باعث شدید خطرات کا شکار ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube