Monday, December 6, 2021  | 30 Rabiulakhir, 1443

برطانیہ کی اعلیٰ جامعات میں طلبہ اساتذہ کےہاتھوں جنسی ہراسانی کاشکار

SAMAA | - Posted: Oct 21, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Oct 21, 2021 | Last Updated: 2 months ago

الجزيرہ انويسٹی گيشن يونٹ کے انکشافات

 

برطانيہ کی اعلیٰ ترین جامعات میں اساتذہ کی جانب سے طلبہ کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔

الجزيرہ انويسٹی گيشن يونٹ کا اپنی 2 سال کی تحقيقاتی رپورٹ ميں کہنا ہے کہ آکسفورڈ، کيمبرج، گلاسکو اور وارک یونیورسٹیز میں کچھ اساتذہ نشے ميں طلبہ سے نہ صرف برا برتاؤ کرتے ہیں بلکہ انہیں جنسی طور پر ہراساں بھی کرتے ہیں۔

رپورٹ ميں کہا گيا ہے کہ ایسے معاملے کی شکايت کرنے پر اسے موثر طريقے سے حل نہيں کيا جاتا۔ ہراسانی ميں ملوث اساتذہ کو کوئی سزا نہيں دی جاتی اورنہ انہيں نوکری سے برخاست کيا جاتا ہے۔

الجزيرہ کو آکسفورڈ، کيمبرج، گلاسکو اور وارک یونیورسٹیز سے جنسی امتياز، شراب کے نشے ميں دھت ہو کر طلبہ سے برا رويہ رکھنے اور انہيں ڈرانے دھمکانے کی درجنوں شکايات ملیں۔

رپورٹ میں آکسفورڈ يونيورسٹی کےدو پروفيسروں اينڈي آرچرڈ اور پيٹر تھامسن کی نشاندہی بھی کی گئی اور دعویٰ کیا گیا کہ دونوں پروفيسروں کی سربراہی ميں پی ایچ ڈی کرنے والی خواتین اساتذہ کو بھی ان سے ایسی ہی شکایات تھیں۔

الجزيرہ کا کہنا ہے کہ جب تمام شواہد يونيورسٹی کے سامنے رکھے گئے تو انتظاميہ نے اسے انفرادی کيس کہہ کر تبصرے سے انکار کردیا تاہم انتظاميہ کا يہ کہنا تھا کہ وہ جنسی ہراسانی کی مذمت کرتے ہیں اور اسے سنجیدگی سے لیتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube