Monday, December 6, 2021  | 30 Rabiulakhir, 1443

خودکش حملہ آوروں کے لواحقین کیلئے مالی امداد اور پلاٹ

SAMAA | - Posted: Oct 20, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Oct 20, 2021 | Last Updated: 2 months ago

طالبان عبوری حکومت نے پیر کو کابل کے ایک لگژری ہوٹل میں ایک تقریب منعقد کی جس میں ملک کے وزیرداخلہ سراج الدین حقانی اور گزشتہ 20 برسوں میں امریکی اور اتحادی افواج پر خودکش حملہ آور جنگجوؤں کے لواحقین نے شرکت کی۔

افغان وزارت داخلہ کے ترجمان قاری سعید خوستی کا کہنا ہے کہ  کابل میں خودکش بم حملہ آوروں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں وزیرداخلہ سراج الدین حقانی نے چند حملہ آوروں (خودکش بمباروں کی ٹیم کے اراکین)  سے بھی ملاقات کی۔

سعید خوستی نے اپنے ٹویٹر اکاونٹ پر سراج الدین حقانی کی دھندلی تصاویر بھی شیئر کی ہیں جن میں وہ خودکش بماروں کے اہل خانہ کو گلے لگا رہے ہیں۔

ترجمان کے مطابق افغان عبوری وزیرداخلہ اور حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی نے خودکش حملہ آوروں کو اسلام اور ملک کے ہیرو قرار دیدیا ہے۔

سعید خوستی کا کہنا ہے کہ سراج الدین حقانی نے شہداء کے اہل خانہ میں 125 ڈالر فی کس تقسیم کیے اور وعدہ کیا کہ ان میں سے ہر ایک کو ایک ایک پلاٹ بھی الاٹ کیا جائے گا۔

حقانی نے کہا کہ ہمارے شہدا کے خون کی بدولت اسلامی نظام کا آغاز ممکن ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب ہمیں ہمارے شہداء کی خواہشات کا سودا کرنے سے باز رہنا ہوگا۔

سراج الدین حقانی کو حقانی نیٹ ورک کی قیادت کی وجہ سے شہرت حاصل ہے جس پر گزشتہ دو عشروں کے دوران غیر ملکی فوجیوں کے خلاف خودکش حملوں کا بھی الزام ہے۔

سراج الدین حقانی کا نام اس وقت بھی عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ہے جن کے بارے میں اطلاع دینے اور گرفتاری پر امریکہ نے ایک کروڑ ڈالر کے انعام کا اعلان رکھا ہے۔

خیال رہے کہ 20 سال تک امریکی اور اتحادی افواج کے خلاف جنگ کے بعد طالبان نے اگست میں افغانستان کا کںٹرول سنبھالا تھا تاہم انہیں فی الحال کسی ملک نے باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube