Sunday, November 28, 2021  | 22 Rabiulakhir, 1443

پاکستان اورایران دفاعی تعاون، علاقائی امن کیلئے ملکرکام کرنے پرمتفق

SAMAA | - Posted: Oct 13, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Oct 13, 2021 | Last Updated: 2 months ago

ایران کی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل محمد باقری اس وقت پاکستان کے دورہ پر ہیں، جہاں انہوں نے وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت دیگر سول اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں۔

میجرجنرل محمد باقری سے بدھ کو ہونے والے ملاقات کے دوران جنرل قمرجاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران دونوں برادر ملک ہیں اور علاقائی امن و استحکام کیلئے ان کا قریبی تعاون ضروری ہے۔

ملاقات میں افغانستان کی صورتحال، علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور خصوصاً پاک ایران سرحد پر باڑ لگانے کا معاملہ زیرغور آیا۔ دونوں رہنماؤں نے دفاعی تعاون، علاقائی امن کیلئے مل کر کام کرنے اور دہشت گردی کیخلاف متفقہ ردعمل پر اتفاق کیا۔

وفد کی سطح پر ملاقات میں ایرانی وفد کو علاقائی سلامتی اور پیشہ ورانہ تیاریوں پر جامع بریفنگ دی گئی اور پاک فوج کے تربیتی امور سے آگاہ کیا گیا۔

ایرانی چیف آف جنرل اسٹاف نے انسداد دہشت گردی اور تربیت کے امور پر فوجی سطح پر تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی اپنی خواہش کا اظہار کیا۔

ایران کے چیف آف جنرل اسٹاف میجرجنرل محمد باقری سے ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے استحکام میں پاکستان اور ایران کا براہ راست مفاد ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان پائیدار معیشت اور رابطوں کو فروغ دینے کی پالیسیوں پر مبنی پرامن اور مستحکم افغانستان دیکھنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو افغانستان میں مطلوبہ امداد کی فوری فراہمی اور اقتصادی بحران روکنے کیلئے مثبت انداز میں متحرک رہناچاہیے۔

عمران خان نے گزشتہ ماہ قائم کردہ افغانستان کے چھ ہمسایہ ممالک کے پلیٹ فارم سے پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی رابطہ جاری رکھنے پر بھی زوردیا۔

انہوں نے جموں وکشمیر کے تنازع پرایران کی غیرمتزلزل حمایت خصوصی طور پر ایرانی رہبر اعلیٰ کی حمایت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری اپنے جائز حق خودارادیت کے لیے ایران کی بھرپور حمایت کی توقع رکھتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube