Wednesday, January 26, 2022  | 22 Jamadilakhir, 1443

اسرائیلی عدالت نےمسجداقصیٰ میں یہودیوں کوعبادت کی اجازت دیدی

SAMAA | - Posted: Oct 9, 2021 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Oct 9, 2021 | Last Updated: 4 months ago

فائل فوٹو

اسرائيل کی ايک عدالت نے يہوديوں کو مسجدِ اقصیٰ ميں عبادت کرنے کی اجازت دے دی۔ فيصلے سے مسجدِ اقصیٰ پر اسرائيلی قبضے کے خدشات پيدا ہوگئے، جب کہ فلسطيني اتھارٹی نے فیصلے کے خلاف شديد احتجاج کيا۔

اسرائيلی آباد کار ربی عريح ليپو کی درخواست پر يہوديوں کو مسجدِ اقصیٰ ميں عبادت کی اجازت دی گئی۔

اسرائيلی مجسٹريٹ نے پوليس کو حکم ديا کہ اگر يہودی مسجدِ اقصیٰ ميں عبادت کرتے ہيں تو اسے مجرمانہ فعل نہ سمجھا جائے اور نہ ہی روکا جائے۔

سنہ 1994ميں عمان اور اسرائيل کے درميان ہونے والے معاہدے کے تحت مسجدِ اقصیٰ کے مخصوص احاطے ميں يہوديوں کو عبادت کی اجازت نہيں تھی۔ يہودی قريبی مغربی ديوار پر عبادت کرسکتے تھے۔

مسجدِ اقصیٰ کے کسٹوڈين اردن نے اسرائيلی عدالت کے فيصلے کو عمان اور تل ابيب امن معاہدے کی خلاف ورزی قرار ديا ہے۔

فلسطينی اتھارٹی کے سربراہ ابراہيم شطيح نے بھی شديد احتجاج کيا۔ امريکا سے مطالبہ کيا کہ وہ مخصوص احاطے ميں يہوديوں کا داخلہ روکنے کيلئے اپنا کردار ادا کرے۔ عرب ممالک سے فلسطينيوں سے يکجہتی کيليے کھڑے ہونے کی اپيل بھی کی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube