Saturday, January 22, 2022  | 18 Jamadilakhir, 1443

کیا افغانستان اور تاجکستان کے درمیان جنگ کا خدشہ ہے؟

SAMAA | - Posted: Oct 7, 2021 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Oct 7, 2021 | Last Updated: 4 months ago

دو ممالک کے درمیان ایک ہزار 357 کلومیٹر طویل سرحد ہو اور دونوں طرف ایک ہی زبان بولنے والے افراد کی اکثریت آباد ہو تو بارڈر کے ایک طرف کے حالات کا دوسرے ملک پر اثر پڑنا کوئی غیرفطری عمل نہیں اور عین ممکنات میں سے بھی ہے۔

تاجسکتان اور افغانستان کے مابین تحفظات اور دلچسپی دونوں کو سمجھنے کے لیے اگر ہم پاک افغان بارڈر کو ذہن میں رکھتے ہوئے کوشش کریں تو بآسانی ساری صورتحال سمجھ سکتے ہیں تاہم یہاں فرق صرف اتنا ہے کہ پاک افغان بارڈر کے دونوں طرف پختون جبکہ تاجک افغان بارڈر کے دونوں طرف تاجک آباد ہیں۔

تاجک نسل کے افراد کی غالب اکثریت رکھنے والے ملک تاجکستان کی ہمدردیاں ہمیشہ افغانستان میں بسنے والے تاجکوں کے ساتھ رہی ہیں۔ واضح رہے کہ تاجک قوم افغانستان میں آباد دوسری بڑی اکثریت ہے۔

کوئی بھی ملک اپنے پڑوس میں اپنی مرضی یا کم از کم ایک ایسی حکومت ضرور چاہتا ہے جس سے اس کے مفادات کو کوئی خطرہ نہ ہو اس لیے تاجکستان کی بھی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ افغان حکومت میں زیادہ سے زیادہ تاجکوں کے شمولیت ہو۔

طالبان اور تاجسکتان کے درمیان شروع ہی سے اعتماد کا فقدان رہا ہے اور طالبان کے پہلے دور حکومت میں بھی طالبان مخالف شمالی اتحاد کو تاجکستان حکومت کی نہ صرف حمایت حاصل رہی بلکہ اس اتحاد کی مدد کرنے والے دیگر ممالک بھی تاجکستان کی ہی سرزمین کا استعمال کرتے تھے۔

حالیہ کشیدگی کہاں سے شروع ہوئی؟

تاجکستان کی حکومت نے نئی بننے والی طالبان حکومت پر حالیہ ہفتوں میں تنقید کی جن میں طالبان کی عبوری حکومت میں دیگر دھڑوں کی نمائندگی میں کمی اور خطے کے استحکام پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

اگست میں طالبان کی جانب سے دارالحکومت کابل کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد  تاجکستان نے افغان سرحد پر اپنے فوجیوں کی تعداد بڑھا دی تھی اور تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے بارہا کہا ہے کہ دوشنبے طالبان کی ایسی حکومت کو تسلیم نہیں کرے گا جس میں تاجک اور ازبک جیسی نسلی اقلیتیں شامل نہ ہوں۔

تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں بھی کہا تھا کہ افغانستان میں سیاسی انسانی بحران اور گورننس سے متعلق حالیہ پیش رفت خطے کی سکیورٹی اور استحکام کے لیے خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں نسلی گروپوں اور قبائل کے درمیان لڑائیوں کی شدت میں اضافہ ایک ایسا عنصر ہے جو ہمارے پڑوسی ملک کی سیاسی اور سکیورٹی صورت حال کو مزید نقصان پہنچا رہا ہے۔

تاجکستان کے صدر کے اس بیان کے جواب میں طالبان نے تاجکستان کو اپنے اندرونی معاملات میں دخل اندازی سے متعلق خبردار کیا تھا۔

افغان نائب عبوری وزیراعظم ملا عبد الغنی برادر نے تاجکستان پر افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا الزام عائد کیا۔

افغان نائب وزیراعظم ملاعبد الغنی برادر نے خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ تاجکستان افغانستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کررہا ہے اور کسی بھی کارروائی کا رد عمل سامنے آتا ہے۔

طالبان نے افغانستان کے شمالی صوبے تخار جس کی سرحد تاجکستان سے ملتی ہے میں ہزاروں جنگجو بھیجے ہیں جبکہ تاجک فوج نے بھی سرحدی علاقوں میں مشقیں کی ہیں۔

عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق روس کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم تاجک افغان تعلقات میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو گہری تشویش کے ساتھ دیکھتے ہیں۔

روسی وزارت خارجہ کے ترجمان الیکسی زیتسوف کا کہنا تھا کہ طالبان کی جانب سے انہیں جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں اس کے مطابق افغان صوبے تخار میں سرحد پر اسپیشل فورسز یونٹ کے ہزاروں مسلح فوجی تعینات کیے جا چکے ہیں۔

روس نے معاملے کے پر امن حل پر زور دیتے ہوئے دونوں ممالک سے اس کشیدگی کو فوراً ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔

خیال رہے کہ تاجکستان میں روس کا فوجی اڈہ بھی قائم ہے اور موجودہ تاجک صدر امام علی رحمان کی حکومت کو روس کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے بھی حالیہ دورہ تاجکستان کے دوران تاجک صدر کو یقین دلایا تھا کہ وہ طالبان پر زور دیں گے کہ طالبان سے محاذ آرائی نہ کرنے والے تاجک رہنماؤں کو افغان حکومت میں نمائندگی دی جائے۔

دونوں رہنماوں کی ملاقات میں افغانستان میں کئی دہائیوں سے جاری پشتون تاجک برادری میں کشیدگی ختم کرنے پر بھی اتفاق ہوا تھا۔

عمران خان کے بیان کے بعد طالبان نے عبوری کابینہ میں تقریبا 8 غیرپختون افراد کو شامل بھی کرلیا تھا مگر اس سے دونوں ممالک کے درمیان بیان بازی کا سلسلہ ختم نہیں ہوا اور افغان میڈیا کے اس وقت بھی سرحد کے دونوں طرف سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔

تاجکستان نے تو طالبان کی کارروائیوں کے آغاز سے ہی سرحد پر سیکیورٹی فورسز کی تعداد میں اضافہ کیا تھا مگر اب طالبان نے بھی جدید سازو سامان سے لیس جنگجو تاجکستان کے ساتھ ملحقہ سرحد پر تعینات کردیئے ہیں۔

اگرچہ طالبان تمام افغان قومیتوں کی نمائندگی کے دعویدار ہیں اور انہوں نے کابینہ میں کسی حد تک غیرپختون افراد کو نمائندگی بھی دی ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ سابقہ حکومت کے لوگوں کو حکومت کا حصہ نہیں بنایا جائے گا جو شائد تاجکستان کی خواہش ہوسکتی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube