Friday, October 22, 2021  | 15 Rabiulawal, 1443

جرمنی: کرسچن ڈيموکريٹک پارٹی کے طویل اقتدار کا خاتمہ

SAMAA | - Posted: Sep 28, 2021 | Last Updated: 4 weeks ago
SAMAA |
Posted: Sep 28, 2021 | Last Updated: 4 weeks ago

جرمنی ميں 16 سال بعد کرسچن ڈيموکريٹک پارٹی کے اقتدار کا خاتمہ ہوگيا اور بائيں بازو کی جماعت سوشل ڈيموکريٹک پارٹی معمولی اکثريت سے فاتح بن گئی۔

سياسی اتحاد بھی حکمران پارٹی کو شکست سے نہ بچا سکا جرمنی ميں 16 برس بعد حکمراں پارٹی کا عہد تمام ہوا، بائيں بازو کی سوشل ڈيموکريٹک پارٹی نے ميدان مار ليا۔

کرسچن ڈیموکریٹک یونین اور سوشل کرسچن یونین کے اتحاد کے باوجود سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نے تنہا 205 نشتيں جيت ليں اور ماضی کے مقابلے ميں 8 فيصد زائد ووٹ حاصل کيے۔

اينگلا مرکل کے ہٹتے ہی کرسچن ڈيموکريٹک پارٹی اليکشن ميں اپنی اکثريت کھو بيٹھی، اولف شلز کی جماعت نے انتہائی کم مارجن سے حکمراں جماعت کو شکست دی۔

سربراہ سوشل ڈيموکريٹک پارٹی اولف شلز کا کہنا ہے کہ لوگوں نے ايس ڈی پی کو ووٹ ديا ہے کيوں کہ وہ حکومت کی تبديلی چاہتے ہيں اور اس ليے بھی کہ وہ چاہتے ہيں کہ انہیں اگلا چانسلر بنايا جائے۔

مرکل کا سياسی اتحاد 195 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا جبکہ ان کی پارٹی کے ووٹوں ميں کمی کا تناسب بھی 8 فيصد رہا۔

گرین پارٹی بھی سو سے زائد سیٹوں کےساتھ تیسری بڑی جماعت کے طور پر ابھری ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube