Friday, October 22, 2021  | 15 Rabiulawal, 1443

آسام کےبعد مدھیہ پردیش میں بھی مسلمان جبروستم کانشانہ

SAMAA | - Posted: Sep 25, 2021 | Last Updated: 4 weeks ago
SAMAA |
Posted: Sep 25, 2021 | Last Updated: 4 weeks ago

بھارتی ریاست آسام کے بعد مدھیہ پردیش میں بھی مسلمانوں کی املاک پر حملوں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔

مدھیہ پردیش میں ہندو انتہا پسندوں نے “غداروں کو گولی مارو” کے نعرے لگاتے ہوئے مسلمانوں پر حملہ کیا اور ان کی دکانیں زبردستی بند کرواکر شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔

اس سے قبل انتہاپسندوں نے سرکاری مشینری کے ساتھ ملکر آسام کے ضلع دارنگ ميں دو مساجد شہيد جبکہ 600 سے زائد مسلمان خاندانوں کے گھر مسمار کردیے تھے۔

آسام میں مسلم خاندانوں کے گھروں کی مسماری کے بعد بچے، بوڑھے اور عورتيں دريائے برہم پُترا کے کنارے کسمپرسی کے عالم ميں پڑے ہيں جبکہ سوشل میڈیا پر گردش کرتی کچھ ویڈیوز میں انتہا پسند ایک مسلمان شہری کی لاش کی بھی بیحرمتی کرتے دکھائی دیے جو پولیس کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔

گزشتہ دنوں ہندوسينا کے شرپسندوں نے دلی ميں رکن لوک سبھا اسدالدين اويسی کی سرکاری رہائش گاہ پر بھی حملہ کيا اور ان کے گھر میں توڑ پھوڑ کی تھی۔

واضح رہے کہ گزشتہ دن جمعہ کو آسام میں مسلمانوں پر تشدد کے معاملے پر بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے پاکستان نے آسام میں مسلمانوں پر مظالم پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ آسام میں مسلمانوں کو نشانہ بنانا اور غیر مسلح شخص کا قتل قابل تشویش ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube