Friday, October 22, 2021  | 15 Rabiulawal, 1443

کیا عام معافی کے باوجود طالبان قتل وغارت کررہے ہیں؟

SAMAA | - Posted: Sep 24, 2021 | Last Updated: 4 weeks ago
SAMAA |
Posted: Sep 24, 2021 | Last Updated: 4 weeks ago

پشتون معاشرے میں بدل یا انتقام کا تصور اس حد تک مضبوط و عام ہے کہ اگر ایک نسل کسی مخالف سے اپنا انتقام نہ لے سکے تو اس کی ذمہ داری اگلی نسل کو منتقل ہوجاتی ہے۔

انتقام لینا پختونوں کی سرشتت میں شامل ہے اور شائد اسی لیے اس بات پر ابتداء سے ہی یہ سوال ابھر رہا تھا کہ کیا طالبان واقعی ان لوگوں کو معاف کرسکتے ہیں جو گزشتہ 20 سال سے انہیں دربدر کرنے والوں کے سہولت کار رہے۔

عام افغانوں کو اس حقیقت کا بخوبی احساس ہے اس لیے امریکی انخلاء کے اعلان کے بعد ان افغان شہریوں نے ملک سے نکلنے کی ہرممکن کوشش کی جنہوں نے کسی بھی حیثیت میں امریکی اور اتحادی افواج کے سے ساتھ کام کیا تھا۔

طالبان نے کابل پر قبضے کے بعد ملک بھر کے جیلوں سے تمام قیدیوں کو بھی رہا کردیا تھا اور ان میں بے شمار ایسے لوگ بھی شامل تھے جنہیں ذاتی دشمنیوں کی بناء پر سابق حکومت کے عہدیداروں نے طالبان سے تعلق کے الزام میں برسوں جیلوں میں رکھا اور وہی لوگ اب انتقام کی آگ سے بے چین سابقہ حکومتوں کے ان اہلکاروں کو ڈھونڈ رہے ہیں۔

دوسری طرف منزل مقصود پالینے والے وہ نوجوان طالبان جنگجو جن کے والدین یا قریبی رشتہ دار سابقہ افغان نیشنل آرمی کے اہلکاروں اور حکومتی رہنماؤں کے ہاتھوں بے دردی سے قتل کیے گئے اب اس جبر و ستم کا بدلہ لینے کی تاک میں ہیں۔  اگرچہ طالبان تحریک میں امیر کی اطاعت اور رہنماؤں کے فیصلوں سے روگردانی نہیں کی جاتی اور ایسی مثالیں بھی نہ ہونے کے برابر ہے تاہم نچلی سطح کے نوجوان جنگجوؤں میں ذاتی انتقام کا جذبہ لاوے کی طرح پک رہا ہے۔

ایسے ہی نوجوان امیر کی ناراضگی یا تحریک کے بیانیے کی پرواہ کیے بغیر اپنے خیالات کا اظہار سوشل میڈیا پر بھی کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

ایسے نوجوانوں کا خیال ہے کہ قیادت کی طرف سے عام معافی کا اعلان اپنی جگہ مگر حقوق العباد کا معاملہ ابھی باقی ہے اور طالبان بطور ریاست ایسے کوئی گناہ معاف نہیں کرسکتے جن میں کسی کی انفرادی حق تلفی ہوئی ہو۔

سوشل میڈیا پر طالبان حمایتی نوجوانوں کی جانب سے تازہ مہم اس وقت شروع ہوئی جب سابقہ حکومت کے ایک اہم کمانڈر فرہاد اکبری جن پر جنگی جرائم کا بھی الزام ہے کی صدارتی محل میں طالبان رہنماؤں کے ہمراہ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔

بظاہر طالبان تحریک سے وابستہ ایک نوجوان نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ “میں کتنا بے بس ہو کہ میرا وہ قاتل جس نے میرے بھائیوں کو اپنے گھر کے صحن میں خواتین کے سامنے موت کے گھاٹ اتاردیا تھا اور مجھے جنگی ٹینک سے باندھ کر بازار کے چکر لگوائے تھے آج وہی شخص صدارتی محل میں طالبان رہنماؤں کے ساتھ بیٹھا ہنس رہا ہے اور میں کچھ نہیں کرسکتا”۔

حبیب الرحمان لوگری لکھتے ہیں ” اس وحشی نے میرے 15 رشتہ داروں اور دوستوں کی جاسوسی کرکے ڈرون حملوں اور دوبدو لڑائی میں مروائے جس کے ہمارے پاس باقائدہ ثبوت ہیں لہٰذا ہم کسی کو اپنا حق معاف کرنے کی اجازت نہیں دیں گے”۔

عبید آغا لکھتے ہیں کہ “جن کے ہاتھ طالبان کے خون سے رنگے ہوں انہیں اہم سرکاری عمارتوں میں خوش آمدید کہنا شہیدوں کے خون سے غداری ہے”۔

رحمت اللہ بیتاب لکھتے ہیں “ہمارے دلوں میں انتقام کی آگ بھڑک رہی ہے لیکن قیادت کی جانب سے دی جانے والی عام معافی کے سبب ہم خاموش ہیں تاہم ہمارے ساتھیوں کے لاشوں کی بیحرمتی کرنے والے سابقہ حکومتوں کے ظالم کمانڈرز کا سرعام گھومنا ہمارے ساتھ ظلم ہے”۔

 افغان وزیردفاع ملایعقوب کا طالبان جنگجوؤں  کے نام پیغام

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے ٹوئٹر پر شیئر کیے جانے والے ایک آڈیو پیغام میں طالبان کے بانی ملاعمر کے بیٹے اور موجودہ وزیردفاع ملایعقوب نے اعتراف کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں کچھ واقعات ہوئے ہیں جن میں غیر ذمہ داری سے دو یا تین لوگوں کو انتقاماً قتل کیا گیا۔

افغان عبوری وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اسلامی امارت نے عام معافی کا اعلان کیا ہے اور جب ایک دفعہ معافی کا اعلان ہوگیا تو پھر کسی بھی شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ انتقام لے سکے اور اگر کسی کا کسی سے انفرادی تنازع ہے تو وہ اسے قانون کے حوالے کرے پھر اگر وہ حق پر ہوا تو سرکاری حکام اسے اس کا حق دلوائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ذاتی حیثیت میں کسی کو مارنا امارت کی پالیسی بھی نہیں اور شرعی لحاظ سے بھی جائز نہیں ہے۔

ملایعقوب کا کہنا تھا کہ اس قسم کے واقعات سے ہمارے بڑے مقاصد کو نقصان پہنچ رہا ہے لہٰذا مجاہدین کو خاص ہدایت ہے کہ وہ انفرادی حیثیت میں کسی کو کچھ نہ کہیں چاہے وہ ان کے والد یا بیٹے ہی کا قاتل کیوں نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی امارات نے سابقہ حکومت کے فوجیوں، جنگی جرائم میں ملوث کمانڈرز اور ہمارے لوگوں کو شہید و ہراساں کرنے والے لوگوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا ہے لہذا کسی بھی مجاہد کو اب یہ حق حاصل نہیں کہ ایسے لوگوں کے خلاف انتقامی کارروائی کرے۔

انہوں نے کہا کہ اگر گزشتہ حکومت میں کسی کے ساتھ کوئی ظلم ہوا ہے تو وہ علماء کرام سے رجوع کرے اور اگر وہ بدلے کا حق رکھتا ہوگا تو پھر ہمارا تعاون اس کے ساتھ ہوگا لیکن اگر کسی نے خود سے کوئی اتنقامی قدم اٹھایا تو اسے اس حرکت کی سزا ملے گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ایمنسٹی انٹرنیشل اور ہیومن رائٹس واچ جیسے عالمی اداروں نے بھی کہا تھا کہ طالبان نے حالیہ مہینوں میں پنج شیر اور دیگر صوبوں میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے تاہم طالبان کی جانب سے ایسے دعووں کو مسترد کردیا گیا تھا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube