Friday, October 15, 2021  | 8 Rabiulawal, 1443

جارج فلوئیڈ کیس کےمجرم ڈیرک شاون نے سزا کوچیلنج کردیا

SAMAA | - Posted: Sep 24, 2021 | Last Updated: 3 weeks ago
SAMAA |
Posted: Sep 24, 2021 | Last Updated: 3 weeks ago

امریکا میں سياہ فام امريکی شہری جارج فلوئيڈ کے قتل کے جرم میں سنائی گئی سزا کو سفيد فام سابق پولیس اہلکار ڈيرک شاون نے چیلنج کردیا ہے۔ ڈیرک شاون کو22 سال 5 ماہ قيد کی سزا سنائی گئی تھی۔

غیرملکی خبرایجنسی کے مطابق ڈيرک شاون نے عدالت میں اپیل دائر کی ہے کہ ان کے ساتھ ماورائے عدالت برا رویہ اختیار کیا گیا۔ انھوں نے مقدمے کی جیوری پر بھی متعدد سوالات اٹھائے ہیں۔

جارج فلوئيڈکےقتل کےجرم میں ڈيرک شاون کوقيد کی سزا

جون میں امريکا کی عدالت کے جج نے سفيد فام پوليس افسر ڈيرک شاون کو قید کی سزا سناتے ہوئے بتایا تھا کہ اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے سیاہ فام امریکی شہری کو قتل کرنے کے جرم میں 22 سال 5 ماہ کی سزا سنائی گئی۔

يہ امريکا ميں طاقت کے جان ليوا استعمال پر اب تک کسی پوليس اہلکار کو دی جانے والی سب سے طويل سزا ہے۔جارج فلوئيڈ کے خاندان نے شاون کی سزا پرخوشی کا اظہارکيا۔

ايڈووکيٹ بين کريمپ نے ٹويٹ کرتےہوئے بتایا تھا کہ يہ تاريخی فيصلہ ہميں اور فلوئيڈ کے خاندان کو اُس مرحلے کے قريب لے گيا ہے کہ جب مجرموں کا احتساب ہورہا ہے۔امريکا کے صدرجو بائيڈن نے کہا تھا کہ سزا مناسب ہے۔

جارج فلوئیڈ قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا

اپریل میں ڈيريک شاون کوسيکنڈ ڈگری کے قتل اور ديگر الزامات پرمجرم قرارديا گيا تھا۔ ديگر3 افسران پرشہری حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کيے گئے تھے۔ملزم پوليس اہلکار ڈيرک شاون کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرليا گيا تھا۔اس موقع پرعدالت کے باہر جمع لوگوں نے بليک لائيوز ميٹر اور انصاف کے نعرے بلند کئے۔

امريکی صدرجُو بائيڈن نے اس فيصلے پر بيان ديتے ہوئے کہا تھا کہ نسل پرستی ہماری قوم کی روح پر بدنما داغ ہے۔جارج فلوئیڈکی موت پر امريکا سميت دنيا بھر ميں نسلی امتياز کے خلاف پُرتشدد احتجاج کيا گيا تھا۔

امریکی سیاہ فام جارج فلوئیڈ کون تھا

امریکی ریاست مینی سوٹا میں سفید فام پولیس اہل کاروں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والا غیر مسلح سیاہ فام شخص جارج  ایک ریسٹورنٹ میں سیکیورٹی گارڈ کے فرائض انجام دیتا تھا اور ان کی عمر 46 سال تھی۔

سوشل میڈیا پر جارج کے قریبی جاننے والوں کا کہنا تھا کہ وہ ایک نہایت صاف دل اور ہمدرد انسان تھے اور لوگوں کی خود بڑھ کر مدد کرتے تھے چاہے اس کیلئے ان کوخود کتنی ہی تکلیف برداشت کرنی پڑے۔

میناپولس میں پیش آنے والے اس واقعے کی ابتدا کسی گاہک کی دکان پر 20 ڈالر کے جعلی بل کے استعمال کرنے کی کوشش سے ہوئی۔

اس کے بعد پولیس کو جارج  نیلے رنگ کی گاڑی کے اوپر نشے کی حالت میں بیٹھے دکھائی دئیے۔ پولیس اہل کار ان کے پاس گئے اور ان کو اتارنے کی کوشش کی، جس پر جارج نے مزاحمت کی۔

ہیوسٹن: جارج فلائیڈ کی آخری رسومات،لوگوں نے آخری دیدار کیا

پولیس اہلکار کے مطابق انہوں نے اس مشتبہ شخص کو ہتھکڑیاں لگائی، تاہم اس دوران انہیں وہ طبی تکلیف میں مبتلا دکھائی دیئے۔ ایک عینی شاہد کی بنائی گئی ویڈیو میں اس شخص (جارج) کو دیکھا جا سکتا ہے، جسے پولیس افسر نے زمین پر دبوچا ہوا ہے اور ایک موقع پر وہ کہتے ہیں کہ مجھے مت مارو۔پولیس اہل کاروں نے اپنے گھٹنے کو اس کی گردن پر زور دے کر دبوچھا ہوا تھا۔

عینی شاہدین نے پولیس افسر کو کہا کہ وہ اپنا گھٹنا اس شخص کی گردن سے ہٹا لیں کیونکہ وہ حرکت نہیں کررہا تھا۔ ایک عینی شاہد نے کہا کہ ان کی ناک سے خون آ رہا ہے، جب کہ ایک اور نے التجا کی تھی کہ اس کی گردن چھوڑ دو۔ اسٹریچر اور پھر ایمبولینس میں ڈالنے سے پہلے وہ شخص بے حس و حرکت نظر آیا۔

پولیس اہل کاروں کی جانب سے غیر مسلح شخص کی ہلاکت کی ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد امریکا کے مختلف شہروں میں مظاہرے پھوٹ پڑے تھے اور کئی شہروں میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔

جارج فلوئیڈ کے اہلخانہ کو 27ملین ڈالرز ادا کرنےکا فیصلہ

مارچ میں امریکی میڈیا نےبتایا تھا کہ جارج فلوئیڈ کے اہل خانہ کو انتطامیہ 27ملین ڈالرز دے گی۔ جارج کے اہلخانہ نے انتظامیہ اور پولیس اہلکاروں کے خلاف مقامی عدالت میں مقدمہ کیا تھا۔ جارج کی فیملی کے وکیل نے کہا کہ یہ کسی بھی سیاہ فارم شہری کی زندگی کے لیے اب تک کا سب سے بڑا مقدمہ ہے جس میں قبل از سماعت اتنی بڑی رقم ادا کی جارہی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیاہ فارم کی زندگی کی بھی کوئی اہمیت ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube