Tuesday, October 19, 2021  | 12 Rabiulawal, 1443

بھارت میں مسلمانوں کے سیکڑوں گھر مسمار،مساجد بھی شہید

SAMAA | - Posted: Sep 22, 2021 | Last Updated: 4 weeks ago
SAMAA |
Posted: Sep 22, 2021 | Last Updated: 4 weeks ago

پوليس نے انتہا پسندوں کے بجائے مسلم نوجوان کو گرفتار کرلیا

بھارت ميں ہندو انتہاپسندوں نے تازہ حملوں میں آسام کے ضلع دارنگ ميں دو مساجد شہيد جبکہ چھ سو سے زائد مسلم خاندانوں کے گھروں کو مسمار کرديا۔

آسام میں مسلم خاندانوں کے گھروں کی مسماری کے بعد بچے، بوڑھے اور عورتيں دريائے برہم پُترا کے کنارے کسمپرسی کے عالم ميں پڑے ہيں۔

سب سے بڑی جمہوريت ک دعويدار بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ وہ کچھ ہو رہا ہے جو جانوروں کے ساتھ بھی نہيں ہوتا ہوگا۔

ميوات ميں مسلمان نوجوان کو جے شری رام کا نعرہ نہ لگانے پر سريے اور لوہے کے راڈوں سے ما را گيا جبکہ اترپرديش کے شہر ميرٹھ ميں انتہا پسند ہندوؤں نے مسلمان عورت کو جان سے مارنے کی دھمکی دے کر شوہر کو تھپڑ اور جوتے مارنے پر مجبور کيا۔

تھانے ميں شکايت کی تو پوليس نے انتہا پسندوں کے بجائے مسلم نوجوان کو جھوٹا قرار دے کر گرفتار کرلیا اور یہ بيان دلوايا گيا کہ اُس نے دباؤ ميں آکر درخواست دی تھی۔

بھارت ميں عام مسلمان تو کيا مسلم ارکین پارليمنٹ بھی محفوظ نہيں، ہندوسينا کے شرپسندوں نے دلی ميں رکن لوک سبھا اسدالدين اويسی کی سرکاری رہائش گاہ پر حملہ کيا اور گھر کے اندر توڑ پھوڑ کی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube