Friday, October 22, 2021  | 15 Rabiulawal, 1443

فاک لینڈتنازع پاکستان میں کرکٹ کی بحالی میں حائل ہوگیا؟

SAMAA | - Posted: Sep 21, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Sep 21, 2021 | Last Updated: 1 month ago

 تین اپریل 1982ء کو برطانیہ کی اس وقت کی وزیراعظم مارگریٹ تھیچر نے فاک لینڈ کا کنٹرول ارجنٹائن سے دوبارہ لینے کیلئے 100 بحری جہازوں کو روانہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس میں تقریباً 27 ہزار فوجی بھی شامل تھے۔

اپریل میں شروع ہونیوالی فاک لینڈ لڑائی کا اختتام جون 1982ء میں ہوا جس کا دورانیہ تقریباً ڈیڑھ ماہ تھا اور دوران لڑائی دونوں ملکوں کو بھاری جانی اور مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔

ارجنٹائن کے ساحل سے 480 جبکہ برطانیہ سے تقریباً 9 ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر بحرِ اوقیانوس میں موجود سینکڑوں چھوٹے اور دو بڑے جزائر پر مشتمل علاقہ فاک لینڈ کہلاتا ہے۔ جزائر فاک لینڈ رقبے کے اعتبار سے 12 ہزار مربع کلومیٹر سے زائد پر محیط ہیں تاہم یہاں کی‌ آبادی صرف 3 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔

ان جزائر کا انتظام نوآبادیاتی دور کے اوائل یعنی 18ویں صدی سے ہی برطانیہ کے پاس ہے لیکن قریب ترین ملک ہونے کے ناطے ارجنٹائن بھی ان جزائر کی ملکیت کا دعویدار ہے۔

ارجنٹائن کے اس وقت کے صدر لیپولڈو گلیٹیری نے 1982ء میں برطانوی فاک لینڈ جزائر پر حملہ کیا، یہ آپریشن قومی اعزاز کو فروغ دینے اور جزائر پر ملک کے طویل مدتی دعویٰ کو عملی شکل دینا تھا۔

جنوبی جارجیا جزیرے کے قریب برطانوی اور ارجنٹائن فورسز کے درمیان ایک مختصر جنگ کے بعد ارجنٹائن کی فورسز 2 اپریل کو فاک لینڈ میں اتری اور 4 اپریل تک ارجنٹائن نے دارالحکومت اسٹینلے پر قبضہ کرلیا تھا۔

جب ان جزائر پر قبضے کیلئے ارجنٹائن کی جانب سے فوجی کارروائی کی گئی تو برطانیہ نے پوری طاقت سے جواب دینے کا فیصلہ کیا اور دونوں طرف سے بھاری جانی و مالی نقصان کے بعد ارجنٹائن کو پیچھے ہٹنا پڑا تھا۔

برطانیہ کی جانب سے 2013ء میں فاک لینڈ پر عوامی ریفرنڈم بھی کرایا گیا جس کا نتیجہ تو برطانیہ کے حق میں رہا تاہم ارجنٹائن نے ریفرنڈم کی مخالفت کی تھی۔

فاک لینڈ کی جنگ کے بعد ارجنٹائن کو برطانیہ کی جانب سے پابندیوں کا سامنا ہے اور برطانوی سرزمین یا اشتراک سے بنے کسی بھی اسلحہ یا جنگی سازو سامان کی ارجنٹائن کو فروخت ممنوع ہے۔

اس کے علاوہ بھی برطانیہ کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی کہ دنیا کے باقی ممالک بھی ارجنٹائن کو وہ سازو سامان فروخت نہ کریں جس سے فاک لینڈ پر ان کے کنٹرول کو کوئی خطرہ پیدا ہوسکے، ان جنگی ساز و سامان میں لڑاکا طیارے اور بحری جہاز بھی شامل ہیں۔

دنیا میں لڑاکا طیارے یا بحری جہاز بنانے والے اکثر ممالک کا تعلق برطانوی اتحادیوں سے ہے، اس لئے ارجنٹائن کی لڑاکا جہاز خریدنے کی کوششوں کو ہمیشہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

حالیہ عرصہ میں ارجنٹائن نے سویڈن اور جنوبی کوریا کے ساتھ بھی لڑاکا طیاروں کے حصول کیلئے ڈیل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اس میں برطانیہ حائل ہوگیا کیونکہ یہ دونوں ممالک برطانیہ کے مضبوط اتحادی ہیں۔

فاک لینڈ تنازع کا پاکستان میں کرکٹ کے بحالی سے کیا تعلق ہے؟

پاکستان 2009ء سے سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد سے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کیلئے کوشاں ہیں اور اس میں 2015ء کے بعد سے پاکستان کو زمبابوے، سری لنکا، جنوبی افریقا کی ٹیموں کے دورہ پاکستان کی صورت میں کامیابیاں بھی ملی تھیں، پاکستان کرکٹ بورڈ کی طویل کاوشوں سے نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیموں نے بھی پاکستان آنے کی حامی بھری جو نیوزی لینڈ ٹیم کی 2002ء اور انگلینڈ ٹیم کے 2005ء کے بعد سے یہ پہلا دورۂ پاکستان ہوسکتا تھا جو بدقسمتی سے ممکن نہ ہوسکا۔

پاکستان میں انٹرنیشل کرکٹ کی بحالی کی کوششوں یا تسلسل کو اس وقت دھچکا لگا جب راولپنڈی میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے شیڈول میچ سے چند گھنٹے قبل نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے دورہ منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔

نیوزی لینڈ کے اعلان کے بعد انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے بھی اعلان کیا تھا کہ وہ 48 گھنٹے میں دورۂ پاکستان کے حوالے سے فیصلہ کریگا جو بعد میں دورۂ پاکستان کی منسوخی کی صورت میں نکلا۔

نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان ختم کرکے وطن واپس جانے اور انگلینڈ کی جانب سے دورۂ پاکستان منسوخ کرنے کے فیصلہ جہاں پاکستانی شائقین کیلئے مایوسی کا سبب بنے وہیں اس نے کئی سوالات کو بھی جنم دیا، جن میں سرفہرست پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کا مستقبل ہے۔

نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ اس نے پاکستان میں سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے دورہ ختم کرنے کا اعلان کیا اور اس نے یہ قدم اپنی حکومت کی اجازت سے اٹھایا ہے جبکہ انگلینڈ بورڈ کے اعلامیے میں بھی سیکیورٹی وجوہات کو دورے کی منسوخی کی وجہ بتایا ہے۔

نیوزی لینڈ نے 17 ستمبر کو دورۂ پاکستان کی منسوخی کا اعلان کیا اور اسی دن ہی برطانوی نشریاتی اداروں نے ارجنٹائن کے پاکستان سے جنگی طیارے خریدنے کے حوالے سے خبریں دینی شروع کیں۔

برطانوی عسکری جرنل میں شائع رپورٹ کے مطابق ارجنٹینا نے پاکستان سے جے ایف 17تھنڈر بلاک تھری طیارے خریدنے کیلئے بات چیت کا آغاز کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ارجنٹائن ابتدائی طور پر 12 جنگی طیارے خریدے گا، جس کیلئے ارجنٹائن کی وزارت دفاع نے 664 ملین ڈالر کا بجٹ مختص کیا ہے۔ ارجنٹینا کی حکومت نے پاکستان سے طیاروں کی خریداری کیلئے رقم کو بجٹ مسودے میں شامل کرلیا ہے۔ جنگی طیاروں میں بلاک تھری کے 10 سنگل سیٹر طیارے جبکہ 2 ڈبل سیٹر طیارے شامل ہیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ارجنٹینا کی فضائیہ 2015ء میں واضح طور پر ختم ہوگئی تھی، جب اس نے ڈاسالٹ میراج 3 انٹرسیپٹر طیارے کے پرانے بیڑے کو ریٹائر کیا تھا جو اس وقت تک فضائیہ کی ریڑھ کی ہڈی کے طور پر کام کرتا تھا۔

بیونس آئرس 2015ء سے سویڈن اور جنوبی کوریا سے لڑاکا طیارے خریدنے کی کوشش کررہا تھا لیکن دونوں فروخت کنندگان برطانوی دباؤ کی وجہ سے پیچھے ہٹ گئے۔

پاکستان اور ارجنٹائن کے درمیان طیاروں کی ڈیل کے حوالے سے معاہدے پر تاحال باضابطہ دستخط تو نہیں ہوئے اور ترجمان پاکستان ایئر فورس کا کہنا ہے کہ فنڈز مختص کرنے کی تجویز کا مطلب یہ نہیں کہ سودا طے پاگیا ہے، فروخت کے معاہدے پر دستخط کے بعد ہی سرکاری بیان جاری ہوگا تاہم ارجنٹائن کی جانب سے بجٹ میں رقم مختص کرنا ان خبروں کی تصدیق یا معاہدے کیلئے جاری بات چیت کی جانب اشارہ کرتی ہے۔

نیوزی لینڈ کی جانب سے دورۂ پاکستان منسوخ کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی پاکستانی ذرائع ابلاع پر یہ خبریں گردش کرنے لگیں کہ اس کے پیچھے برطانیہ کا ہاتھ ہوسکتا ہے کیونکہ جس قسم کے تھریٹ کا نیوزی لینڈ کی جانب سے ذکر کیا جارہا تھا اس کی معلومات خطے میں موجود برطانوی یا امریکی ادارے ہی فراہم کرسکتے تھے۔

اگرچہ پاکستان نے سرکاری سطح پر کسی ملک کا نام تو نہیں لیا لیکن وزیر داخلہ شیخ رشید نے نیوزی لینڈ کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے سازش قرار دیا تھا جبکہ اس سے قبل وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر برطانیہ کی جانب سے پاکستان کو ریڈ لیسٹ میں رکھنے کے فیصلے کو بھی سیاسی فیصلہ قرار دے چکے ہیں۔

ارجنٹائن اور برطانیہ کے درمیان فاک لینڈ تنازع کے پس منظر میں ارجنٹائن کا پاکستان سے جے ایف 17 تھنڈر طیارے خریدنے کے فیصلہ کے دن دورۂ نیوزی لینڈ کی منسوخی انہی خدشات کو تقویت دیتا ہے کہ نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے فیصلوں کے پیچھے سیکیورٹی خدشات نہیں بلکہ پاکستان اور ارجنٹائن کے درمیان جنگی طیاروں کی متوقع ڈیل ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube