Tuesday, October 19, 2021  | 12 Rabiulawal, 1443

آبدوزوں سے متعلق آسٹریلیا امریکا معاہدہ اور فرانس کی ناراضگی

SAMAA | - Posted: Sep 20, 2021 | Last Updated: 4 weeks ago
SAMAA |
Posted: Sep 20, 2021 | Last Updated: 4 weeks ago

 

آسٹریلیا نے امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ نئے سکیورٹی معاہدے کے حق میں فرانس سے کئی ارب ڈالر کی آبدوزوں کی خریداری ختم کرنے کے اپنے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔

بی بی سی کے مطابق وزیراعظم سکاٹ موریسن نے آسٹریلیا پر جھوٹ بولنے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فرانس کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ وہ معاہدہ توڑنے کے لیے تیار ہے۔

اس معاہدے نے آسٹریلیا کی جانب سے سنہ 2016 میں 12 روایتی آبدوزوں کی تعمیر کے لیے 37 ارب ڈالر کا معاہدہ ختم کر دیا ہے، فرانس کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے بارے میں عوامی اعلان سے چند گھنٹے پہلے ہی اُسے آگاہ کیا گیا تھا۔

آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم مسٹر موریسن نے اتوار کو کہا کہ وہ فرانس کی مایوسی کو سمجھتے ہیں لیکن وہ آسٹریلیا کے مؤقف کے بارے میں ہمیشہ واضح رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ فرانسیسی حکومت کے پاس یہ جاننے کی ہر وجہ ہے کہ ہمیں گہرے اور سنگین خدشات ہیں۔

اس سے قبل فرانسیسی وزیرخارجہ نے آسٹریلیا اور امریکہ کے نئے دفاعی معاہدے پر تنقید کی ہے، جس کی وجہ سے فرانس نے ان ممالک سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا ہے۔

آکس دفاعی معاہدے کے ذریعے امریکہ آسٹریلیا کو جوہری ایندھن سے لیس آبدوزیں بنانے اور تعینات کرنے کی صلاحیت اور ٹیکنالوجی فراہم کرے گا جس سے فرانس کا آسٹریلیا کے ساتھ اربوں ڈالر کا معاہدہ ناکام ہوا ہے۔

اس معاہدے کا مطلب ہے کہ آسٹریلیا جوہری ایندھن والی آبدوزیں رکھنے والا ساتواں ملک بن جائے گا۔ معاہدہ کے تحت اتحادی سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت اور زیر سمندر ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں تعاون کریں گے۔

اس دفاعی معاہدے سے آسٹریلیا اور فرانس کے درمیان سنہ 2016 میں 12 روایتی آبدوز بنانے کے لیے 37 ارب ڈالر کا معاہدہ اختتام پذیر ہوگیا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube