Friday, October 22, 2021  | 15 Rabiulawal, 1443

سیکيورٹی حالات بہتر ہونے پر لڑکياں اسکول جاسکيں گی، طالبان

SAMAA | - Posted: Sep 20, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Sep 20, 2021 | Last Updated: 1 month ago

طالبان کوتسلیم نہ کیا تویہ ساری دنیا کیلئے مسئلہ بنےگا

طالبان کے ترجمان ذبيح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ حالات معمول پر آجائيں اور ماحول محفوظ ہوجائے تو پھر سيکنڈری اسکول طالبات تدريس کا سلسلہ شروع کرسکتی ہيں۔

جرمن جريدے اسپيجل کو انٹرویو دیتے ہوئے ترجمان طالبان ذبيح اللہ مجاہد نے کہا کہ ابتدا ميں ہی رياست کے انتظامات بہتر بنانا چاہتے ہيں تاکہ آنے والے دنوں ميں اسے سہولت سے سب کے ليے قابل قبول بنايا جا سکے۔

ترجمان طالبان نے کہا کہ ہماری کابينہ ميں کئی نسلی گروہوں کے لوگ شامل کيے گئے ہيں۔ تاہم گزشتہ سياسی نظام کے بھگوڑوں کے ليے اب کوئی گنجائش نہيں ہے، وہ اس قدر کرپٹ اور بدنام ہيں کہ طالبان کی ساکھ خراب کر ديں گے۔

ايک سوال پر ذبيح اللہ مجاہد نے بتايا کہ لوگ افغانستان دو وجوہات پر چھوڑ رہے ہيں۔ پہلے امريکا نے ابتری پھيلائی اور پھرلوگوں کو ملک چھوڑنے پر اکسايا کيونکہ لوگ امريکا يورپ کو جنت سمجھتے ہيں اس ليے انتشار پيدا ہوا جس سے بچنے کے ليے گرفتارياں کرنا پڑيں۔

انہوں نے کہا کہ جو بےقصور ہيں انہيں چھوڑ ديا جائے گا، ہم نے ايسے دشمنوں کو معاف کيا ہے جو 20سال سے ہمارا خون بہا رہے تھے۔

ترجمان طالبان نے کہا کہ امريکا، يورپ کی حکومتوں اور ورلڈ بينک سے مذاکرات کی ہرممکن کوشش کر رہے ہيں تاکہ ہمارے اثاثے ديے جائيں۔ يہ افغانستان کا پيسہ ہے۔

ذبيح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہيں دنيا افغانستان کی تعمير نو ميں ہماری مدد کرے اور اگر دنيا نے طالبان کو تسليم نہ کيا تو يہ افغانستان کے ليے ہی نہيں ساری دنيا کے ليے مسئلہ بنے گا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube