Monday, October 25, 2021  | 18 Rabiulawal, 1443

افغانستان: شہری گھریلو سامان فروخت کرنے پر مجبور

SAMAA | - Posted: Sep 17, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Sep 17, 2021 | Last Updated: 1 month ago

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں روزگار کی بندش کی وجہ سے شہری خوراک کے حصول کیلئے گھریلو سامان فروخت کرنے پر مجبور ہوگئے۔

عالمی بینک، آئی ایم ایف اور امریکی مرکزی بینک نے طالبان کے افغانستان پر کنٹرول کے بعد افغانستان کی بین الاقوامی فنڈز تک رسائی ختم کردی ہے، جس سے افغان شہریوں کو نقدی کے بحران کا سامنا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق کابل کے چمن حضوری محلے کا علاقہ ریفریجریٹرز، کشن، پنکھے، تکیے، کمبل، چاندی کے برتن، پردے، بستر، گدے اور دیگر گھریلو قیمتی ساز و سامان سے بھرا ہوا ہے، یہ سامان شہری یہاں فروخت کرنے کیلئے لے آتے ہیں تاکہ وہ اپنے خاندانوں کیلئے خوراک حاصل کر سکیں۔

اے ایف پی کے مطابق بازاروں میں کچن کی اشیاء سے لے کر 90 کی دہائی کے ٹی وی سیٹس، پرانی سلائی مشینیں، بستر اور قالین موجود ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بینکنگ کے شعبے سے وابستہ تین ماہرین کا کہنا ہے کہ پیسے کی کمی سے ملک کی پہلے سے تباہ حال معیشت کو مزید تباہی کا خطرہ ہے۔

افغانستان کے بینکوں میں ڈالر ختم ہو رہے ہیں اور اگر طالبان حکومت فنڈز جاری نہیں کرتی تو بینکوں کو اپنے دروازے بند کرنا پڑ سکتے ہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں غربت میں مزید 25 فیصد اضافہ ہوگیا ہے،  رپورٹ کے مطابق آئندہ سال کے وسط تک 97 فیصد سے زیادہ آبادی خط غربت سے نیچے جاسکتی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube