Monday, January 24, 2022  | 20 Jamadilakhir, 1443

کیا پنجشیر کی جنگ طالبان کیلئے مشکل محاذ ثابت ہوگی

SAMAA | - Posted: Aug 17, 2021 | Last Updated: 5 months ago
Editing & Writing | Ambreen Sikander
SAMAA |
Posted: Aug 17, 2021 | Last Updated: 5 months ago

اب تک کی تازہ صورت حال کے مطابق مکمل افغانستان طالبان کے قبضے میں نہیں ہے۔ کابل کے بغل میں موجود پروان، میدان مرد، نورستان میں ابھی بھی فوج کیساتھ مزاحمت کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک ایسے موقع پر جب سب کی نظریں کابل پر لگی ہوئی تھیں، اسی دوران  کابل کے اطراف میں موجود چھوٹے علاقے طالبان کی چھولی میں گرتے جا رہے تھے، یہ ہی وجہ تھی کہ طالبان کی پیش قدمی مسلسل بڑھتی رہی۔

یہ بات یاد رکھیں کہ ملا بردار افغانستان واپسی کے بعد کابل نہیں قندھار جائیں گے۔ جہاں ان کی ملاقات ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ، ملا یعقوب اور سراج الدین حقانی سے ہوگی۔

طالبان کیلئے سب سے اہم سمجھا جانے والا علاقہ وادی پنجشیر سال 1994 میں طالبان کے زیر قبضہ نہیں آسکا تھا، جو کابل سے 150 کلو میٹر پر واقع ہے۔ اور یہاں تک رسائی صرف پنجشیر پاس کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ یہ ہی وہ جگہ ہے جو سابق ناردرن الائنس کے سربراہ احمد شاہ مسعود کیلئے موافق ثابت ہوئی۔ واضح رہے کہ احمد شاہ مسعود نائن الیون حملوں کے فوراً بعد القاعدہ کے ٹارگٹڈ حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ اس کے بعد اس علاقے میں اگر کسی نے قدم جمائے تو وہ امریکی افواج تھی۔

تازہ صورت حال کو دیکھا جائے تو گزشتہ 3 ہفتوں کے دوران طالبان بھی اس علاقے میں داخل ہونے کی کوششوں میں لگے ہیں، تاہم تاحال انہیں کامیابی نہیں مل سکی ہے۔

پنجشیر کے طالبان کے زیر تسلط نہ آنے کی کئی وجوہات ہیں۔ افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد احمد شاہ مسعود کے بیٹے پاکستان چلے گئے تھے، تاہم کچھ ذرائع سے موصول اطلاعات کے مطابق  اب وہ واپس پنجشیر آگئے ہیں، جب کہ ناردرن الائنس کی دیگر قیادت بھی یہاں واپس آگئی ہے، جس کے بعد یہاں صرف مذاکرات اور مزاحمت ہی دیکھنے کو مل رہی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube