Monday, January 24, 2022  | 20 Jamadilakhir, 1443

کیا دنیا طالبان کو غلط سمجھ بیٹھی تھی؟

SAMAA | - Posted: Aug 17, 2021 | Last Updated: 5 months ago
SAMAA |
Posted: Aug 17, 2021 | Last Updated: 5 months ago

طالبان کیلئے یہ کہاوت مشہور ہے کہ وہ قندھار سے طلوع ہوتے ہیں اور پکتیا میں غروب ہوتے ہیں۔

امریکی افواج کی جانب سے افغانستان میں جب جنگ کا آغاز ہوا تو اس کی ابتدا پکتیا سے کی گئی، جب کہ اس کا اختتام قندھار میں ہوا، تاہم اب صورت حال تبدیل ہوگئی ہے۔

موجودہ صورت حال کو دیکھا جائے تو ہمیں بھی کچھ ایسا ہی لگتا ہے کہ اب حالات مختلف اور طالبان کی حکمت عملی کابل پر حکمرانی نہیں بلکہ ان کی ترجیحات کچھ اور ہیں۔

افغان فورسز اور امریکی کو یہ خام خیالی تھی کہ طالبان موسم سرما سے قبل کابل کا رخ نہیں کریں گے تاہم ایسا نہ ہوا اور راتوں رات تبدیلی کی ایسی ہوا چلی کہ سورج کی پھیلتی کرنوں کے ساتھ ہی طالب کی پیش قدمی کابل کی جانب بڑھنے لگی۔

بے شک سیاسی اور طاقت کے لحاظ سے کابل کی اپنی اہمیت ہے مگر قندھار ابتدا سے ہی طالبان کیلئے ایک روحانی مرکز سے کم نہیں رہا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ طالبان کیلئے قندھار کو جو اہمیت حاصل ہے، وہ کسی طور کابل کی نہیں ہوسکے گی۔ قندھار طالبان کیلئے ہمیشہ سے اہم تھا، ہے اور رہے گا۔

عام تاثر یہ تھا کہ طالبان کی جانب سے پہلے پشتون علاقوں پر کنٹرول حاصل کیا جائے گا جس کے بعد شمالی علاقوں کا رخ کیا جائے گا۔ مگر یہاں بھی سب تجزیئے الٹے ہوئے اور کابل کی جانب سے پہلی فتح کا مرکز زرنج ٹھہرا، جس کی سرحدیں ایران سے ملتی ہیں اور ان کا دور دور تک پشتون علاقوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

آگے کی بات کی جائے تو شمالی علاقوں کی جانب پیش قدمی میں بھی طالبان کو کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔ مگر سب سے زیادہ تعجب کی بات یہ ہے امریکا کے افغانستان سے جانے کے بعد طالبان کو سب سے زیادہ مزاحمت کا سامنا ان کے اپنے گڑھ قندھار  سمیت ہلمند اور غزنی کے پشتون علاقوں میں ہی کرنا پڑا۔

یہاں ان کیلئے سب سے بڑا چیلنج پشتون ہی ثابت ہوئے، جنہوں نے زیادہ مزاحمت دکھائی۔ یعنی جن پر تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے۔

طالبان کیلئے کابل کی کوئی اہمیت نہیں مگر کابل پر کنٹرول عزت کی بات تھی۔ عام لوگوں کے خیال میں طالبان نے اگر کابل پر قبضہ نہ کیا تو پھر ان کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ صرف ایک گھنٹے کے مختصر وقت میں کیسے شہر کے مغربی حصے میں یہ جمع ہونا شروع ہوئے۔ یہاں بھی اتفاق دیکھیں کہ طالبان نے پیش قدمی کیلئے انتخاب بھی ایک ایسی جگہ کا کیا جو شیعہ آبادی پر مشتمل علاقہ ہے۔ جس کے بعد طالبان کوته سنگی سے شہر میں داخل ہوئے۔

اس تمام عرصے میں جو سب سے بڑی خبر ہے وہ یہ ہے کہ ملا برادر 20 سال بعد قطر سے افغان سرزمین پر اترنے کیلئے دوحا میں موجود مرکزی قیادت کے ہمراہ خصوصی طیارے میں روانہ ہوچکے ہیں۔

طالبان جنگجوؤں کی جانب سے شہر کا کنٹرول بغیر خون بہائے حاصل کرلیا گیا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ منظر نامے سے غائب ہونے والے افغان صدر اب افغانستان میں ہی موجود نہیں ہیں۔ جب کہ عبد اللہ عبداللہ اور سابق صدر حامد کرزئی برسر اقتدار آنے والے رہنماؤں کیساتھ مذاکرات میں جت گئے ہیں۔

یہ سب باتیں اپنی جگہ کہ کابل اب طالبان کے زیر کمان ہے مگر پھر بھی شہر کے بیچوں بیچ موجود کابل ایئرپورٹ اب بھی امریکا کے زیر تسلط ہی  ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube