Thursday, September 23, 2021  | 15 Safar, 1443

افغانستان: طالبان قندھار شہرمیں داخل، اسلحے کے ذخیرے پر قابض

SAMAA | - Posted: Jul 29, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 29, 2021 | Last Updated: 2 months ago

افغان فورسزکی بمباری میں مسجد شہید، مدرسہ، مکانات وباغات تباہ

طالبان قندھار ميں داخل ہوگئے، لشکر گاہ کے بڑے حصے اور لوگر ميں اسلحہ کے بڑے ذخيرے پر قبضہ کرليا، لڑائی ميں ہلمند کا پوليس چيف مارا گيا، ننگرہار ميں افغان کمانڈوز نے گھروں کو دھماکے سے اُڑا ديا، شبرغان اور کنڑ پر بمباری سے مسجد شہيد، مدرسہ، مکانات اور باغات تباہ ہوگئے۔

افغانستان میں طالبان اور حکومتی فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں، گھمسان کی لڑائی کے بعد طالبان قندھار شہر ميں داخل ہوگئے، کرزئی محل پر قبضہ کرليا۔

رپورٹ کے مطابق ہلمند کے صوبائی کونسل کے سربراہ کا کہنا ہے کہ طالبان دارالحکومت لشکر گاہ کے بڑے حصے پر بھی قبضہ کرچکے ہيں۔

لڑائی کے دوران صوبائی پوليس چيف بھی ہلاک ہوگيا، ديگر مقامات پر طالبان اور نجی مليشياء کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ صوبہ لوگر ميں طالبان نے بھاری اسلحہ اپنے قبضے ميں لے ليا۔

یہ بھی پڑھیں: طالبان نے افغانستان میں 220 اضلاع کا کنٹرول حاصل کرلیا

افغان صوبہ جوزن کے صدر مقام شبرغان پر افغان فضائيہ نے طالبان کے ٹھکانوں پر شديد بمباری کی، جس میں مسجد شہيد، مدرسہ، مکانات اور باغات تباہ ہوگئے، گندم کا ذخيرہ بھی برباد ہوگیا۔

کپيسا کے ضلع نجراب، لغمان، فرح اور تُخار ميں مقامی آباديوں کو بھی نشانہ بنايا، حملوں ميں 90 سے زائد طالبان ہلاک ہوئے۔

کُنڑ کے ضلع غازی آباد ميں شديد لڑائی کے بعد تباہی کے مناظر ديکھنے ميں آئے۔ ننگرہار ميں افغان کمانڈوز نے مسجد اور مکان کو دھماکا خيز مواد سے تباہ کرديا۔

معروف امريکی تاريخ دان اینڈريو جے بسيويچ کہتے ہيں کہ امريکا کا غرور و تکبر اور جنرل پيٹرياس جيسے جنرلوں نے اسے افغانستان ميں واضح شکست سے دوچار کيا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube