Tuesday, September 28, 2021  | 20 Safar, 1443

افغان صدارتی محل پر نماز عید کے موقع پر راکٹ حملہ

SAMAA | - Posted: Jul 20, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 20, 2021 | Last Updated: 2 months ago

تین راکٹ داغے گئے جو ریڈ زون میں گرے

افغانستان ميں صدارتی محل پر راکٹوں سے حملہ کرديا گيا، صدر اشرف غنی، سابق صدر حامد کرزئی، عبداللہ عبداللہ اور ديگر اعلیٰ حکام عيد الاضحیٰ کی نماز ادا کر رہے تھے۔

افغان حکام نے نماز عید کے موقع پر کابل میں راکٹ حملوں کی تصدیق کردی تاہم کسی جانی یا مالی نقصان سے متعلق کچھ نہیں بتایا گیا، حملے کے بعد فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔

صدارتی محل میں نماز عید کی ادائیگی کے دوران صدر اشرف غنی، سابق صدر حامد کرزئی، عبداللہ عبداللہ اور اہم حکومتی عہديداران موجود تھے۔

افغان صدارتی محل میں نماز عید کی ایک ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے، جس میں دھماکوں کے باعث کچھ لوگوں کو خوفزدہ دیکھا جاسکتا ہے تاہم زیادہ تر افراد پرسکون انداز میں نماز عید ادا کرتے رہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ افغانستان کے صدارتی محل کو راکٹ حملوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ اے ایف پی کے مطابق صدارتی محل پر آخری راکٹ حملہ گزشتہ برس دسمبر میں ہوا تھا۔

ترجمان افغان وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ داغے گئے راکٹ محل کے باہر گرین زون میں 3 مختلف مقامات پر گرے، فی الحال کسی بھی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے، ہماری ٹیم اس حملے کی تحقیقات کررہی ہے۔

افغان ميڈيا کے مطابق کابل پر ’’پروان سے‘‘کے علاقے سے 3 راکٹ فائر ہوئے، جو باغِ علی مردان، چمن حضوری اور منابے بشاری کے علاقوں ميں گرے، حملوں کے بعد سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube