Sunday, September 26, 2021  | 18 Safar, 1443

بڑے شہروں میں جنگ کرنے کی پالیسی نہیں، طالبان

SAMAA | - Posted: Jul 13, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 13, 2021 | Last Updated: 2 months ago

افغان طالبان نے واضح کیا ہے کہ وہ افغانستان کے صوبائی دارالحکومتوں میں کسی قسم کی جنگ نہیں کریں گے بلکہ حکومتی ذمہ داران سے بات چیت کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

افغانستان کے صوبائی دارالحکومتوں  پر ’قبضے‘ کے حوالے سے طالبان نے پالیسی بیان جاری کردیا، گزشتہ روز افغان طالبان کے ’دعوت اور رہنمائی کمیشن‘ کے سربراہ ڈاکٹر متقی کی جانب سے ویڈیو پیغام میں افغانستان کے علما، بااثر شخصیات، حکومتی ذمہ داران اور سرکاری ملازمین پر واضح کیا گیا ہے کہ اطراف میں جنگ مکمل ہوجائے تو مرکزی شہروں میں افغان طالبان کی جنگ کرنے کی کوئی  پالیسی نہیں ہے۔

ڈاکٹر تقی نے مزید کہا ہے کہ ہم نہیں چاہتے کہ مرکزی شہروں میں کاروباری زندگی اور تجارت متاثر ہو، صحت  کے مراکز بند ہو جائیں اور عام لوگ متاثر ہوں، ہم بااثر شخصیات کو باور کرانا چاہتے کہ وہ سامنے آئیں اور حکومتی ذمہ داران کے ساتھ بات کرکے اپنی مرضی سے حکومتی ذمہ داریوں سے دستبردار ہوجائیں تاکہ حکومتی مشینری اسی طرح چلتی رہے اور کسی قسم کا نقصان نہ ہو۔

ڈاکٹر متقی نے بتایا کہ جس طرح اضلاع میں طالبان کی جانب سے کسی قسم کی تخریب کاری اور نہ کسی کو نقصان پہنچایا گیا اور (انتظامی امور  کا کنٹرول سنبھال لیا) تو اسی طرح طالبان چاہتے ہیں کہ مفاہمت کا راستہ اختیار کرکے مرکزی شہروں کا کنٹرول بھی سنبھال لیں۔

انہوں نے کہا کہ افغان طالبان نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ وہ لوگ جو افغان پارلیمان کے ممبران ہیں یا سینیٹرز ہیں، ان کو کچھ نہ کہا جائے اور ان کیلئے عام معافی کا اعلان کیا گیا ہے کیونکہ ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ اداروں کے کام میں کوئی دخل ہو اور سب کچھ ٹھیک طریقے سے چلتا رہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube