Wednesday, July 28, 2021  | 17 Zilhaj, 1442

کیا مقبوضہ کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال ہوجائیگی؟

SAMAA | - Posted: Jun 19, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Jun 19, 2021 | Last Updated: 1 month ago

فائل فوٹو

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کی ریاستی حیثیت سے متعلق اکل جماعتی کانفرنس طلب کرلی ہے۔

بھارتی ویب سائٹ انڈیا ٹوڈے کے مطابق کل جماعتی کانفرنس کی صدارت بھارتی وزیراعظم مودی کریں گے۔ کانفرنس 24 جون کو بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ہوگی۔

کل جماعتی کانفرنس میں شرکت کیلئے مقبوضہ کشمیر کے تمام اہم سیاسی رہنماؤں کو دعوت نامے ارسال کردیئے گئے ہیں۔ محبوبہ مفتی کی جانب سے بھی دعوت نامہ موصول ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔

محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ دعوت نامہ موصول ہوا ہے، جس پر مشاورت کر رہی ہوں۔ سیاسی حلقوں کی جانب سے اس بات کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کل جماعتی کانفرنس میں مقبوضہ وادی کی ریاستی حیثیت کی بحال پر بھی بات چیت ہوگی۔

کل جماعتی کانفرنس میں جموں اور مقبوضہ کمشیر کے رہنماؤں کے مابین ملاقات کا قوی امکان ہے۔ جموں و کشمیر کے سینیر رہنما نے انڈیا ٹوڈے سے بات چیت میں بتایا کہ انہیں کل جماعتی کانفرنس میں مدعو کیا گیا ہے، تاہم انہیں باقاعدہ دعوت نامے کا انتظار ہے۔ تاہم کانفرنس سے متعلق ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے کہ اس میں کس موضوع پر بات چیت ہوگی۔

انسانی حقوق کے عالمی دن پر کشمیر میں یوم سیاہ منایا گیا—فائل/فوٹو:اے ایف پی

بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ نے اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ کانفرنس میں ممکنہ طور پر رواں سال نومبر یا اگلے سال ہونے والے انتخابات کیلئے ماحول ساز گار بنانے سے متعلق گفتگو ہوگی، جس کیلئے بھارتی کی مرکزی حکومت نے مقبوضہ وادی میں حلقہ بندیوں اور حد بندیوں میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔

کل جماعتی کانفرنس میں شرکت کیلئے اب تک 9 جماعتوں کو دعوت دی گئی ہے، جب کہ امکان ہے کہ اس میں 16 جماعتیں شامل ہونگی۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ

واضح رہے کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر پر مکمل لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے بعد سخت گیر ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کی قیادت میں بھارتی حکومت نے یکطرفہ طور پر، کشمیر کی ریاستی اسمبلی سے مشاورت کے بغیر (جو کہ گورنر راج کی وجہ سے اس وقت فعال نہیں تھی) کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا تھا۔

ان حالات میں ایک نیا آئینی آرڈر، کانسٹیٹیوشن آرڈر 2019 پاس کیا گیا جس کے تحت ریاست جموں کشمیر کو 2 یونین ٹیریٹوریز میں تقسیم کیا گیا:

لداخ، اور جموں و کشمیر۔ اس عمل کے دوران انڈیا نے کشمیر میں موجود اپنی فوجوں میں اضافہ کیا جس سے کشمیر میں انڈین فوج کی مجوموعی تعداد 750 لاکھ تک پہنچ گئی۔ کشمیر پر مکمل مواصلاتی پابندی لگا دی گئی، اور اب بھی کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے بگڑتے ہوئے حالات کے باوجود تیز رفتار موبائل انٹرنیٹ پر پابندی ہے۔

مقبوضہ وادی میں 4 ہزار کے قریب افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں بچے بھی شامل تھے اور ان میں سے اکثر کو بنا کسی فرد جرم کے قید کیا گیا۔

آرٹیکل 360 اے کا نفاذ

بھارتی وزیراعظم کے حکم پر 5 اگست کو تحریک آزادی کی صدا کو دبانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے اپنے آئین سے آرٹیکل 370 نکال دیا۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا مطلب ہے کہ انڈین آئین کے آرٹیکل 370 اور 35A کے تحت کیے گئے وعدے اب نہیں رہے اور انڈیا کے زیر انتظام کشمیر پر اب دلی کی براہ راست حکومت ہے۔ اس سے ریاستی پرچم، ریاست کا آئین اور سینکڑوں ریاستی قوانین بھی بیکار ہو گئے اور سیاسی، انتظامی اور قانونی نقطہ نظر سے سب کچھ تھم گیا۔

آرٹیکل 370 کے نمایاں نکات

1) جموں و کشمیر کو بھارت کا آئینی حصہ قرار دیا گیا۔

2) جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دیتا ہے اور کشمیری اپنے لیے قوانین خود بنائیں گے اور ریاست پر بھارتی قوانین لاگو نہیں ہوں گے۔

3) جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت عارضی ہے۔

4) آرٹیکل 370 میں اس کی منسوخی کا بھی طریقہ کار وضع کیا گیا اور کہا گیا تھا کہ صدر چاہے تو ایک حکم جاری کرکے اس کو ختم کرسکتا ہے مگر اس کے لیے انہیں جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی سے اجازت لینا ہوگی۔

جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی 1957 میں بھی ختم ہوگئی تھی اور انتخابات کے نتیجے میں جو اسبملی سامنے آئی اس کو قانون ساز کہا گیا تھا اور بھارتی حکام اس آرٹیکل کے خاتمے میں اس شق کو رکاوٹ قرار دے رہے تھے اور کہا جاتا تھا کہ اس شق کی موجودگی میں آرٹیکل کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔

آرٹیکل 35 اے کے نمایاں نکات

اس خصوصی قانون کے خاتمے کے بعد اب بھارت بھر کے رہائشی مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خرید کر مقبوضہ وادی میں مستقل طور پر رہائش اختیار کر سکیں گے۔

کشمیریوں کو خدشہ ہے کہ اب بڑی تعداد میں ہندو مقبوضہ کشمیر کا رخ کریں گے اور یہاں رہائش اختیار کریں گے جس کے نتیجے میں مسلم اکثریتی خطے میں جغرافیائی تبدیلیاں آئیں گی اور مقبوضہ کشمیر ہندو اکثریتی علاقے میں تبدیل ہو جائے گا۔

— فوٹو: اے ایف پی

نئے ڈومیسائل قوانین

اس کے بعد انڈیا نے 18 مئی 2020 کو جموں و کشمیر یونین ٹیریٹوری کے لیے ڈومیسائل کے نئے قواعد متعارف کرائے جن کے تحت انڈیا کے کسی بھی حصے سے لوگ کشمیر کا ڈومیسائل حاصل کر سکتے ہیں۔ آرٹیکل 370 اور 35A کے تحت حاصل حاصل ضمانتوں کے تحت یہ ممکن نہیں تھا۔ دی جموں اینڈ کشمیر ری آرگانائیزیشن آرڈر 2020 کے تحت ڈومیسائل کی تعریف بدل دی گئی تا کہ غیر کشمیریوں کے لیے مستقل رہائش حاصل کرنا آسان ہو جائے۔ اس کا مقصد کشمیر کے متنازع خطے میں آبادی کے تناسب کو بدلنا ہے۔

ترمیم شدہ ڈومیسائل قانون کی وجہ سے کشمیریوں کے لیے ملازمت میں بھی مواقع کم ہو جائیں گے کیونکہ اب کشمیر میں موجود نوکریوں کے لیے غیر کشمیری بھی درخواست دے سکیں گے۔ اس طرح کے خدشات کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے کہ آبادی کے تناسب میں تبدیلی سے کسی بھی رائے شماری کے نتائج پر اثر پڑے گا۔

قانون ساز اسمبلی

آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کا مقصد پورا کرنے کے لیے 2019 کے صدارتی حکمنامے میں ’آئین ساز اسمبلی‘ کو بدل کر ریاست کی ’قانون ساز اسمبلی‘ کر دیا گیا۔ ایسا کرنا اس لیے ضروری تھا کیونکہ آرٹیکل 370 (3) کے مطابق آرٹیکل 370 صدارتی حکمنامے سے ختم ہو سکتا ہے تاہم اس کے لیے ’آئین ساز اسمبلی‘ کی سفارش لازمی ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube