Saturday, October 23, 2021  | 16 Rabiulawal, 1443

ایران کا نیا صدر الیکٹڈ ہوگا یا سلیکٹڈ

SAMAA | - Posted: Jun 17, 2021 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 17, 2021 | Last Updated: 4 months ago

بشکریہ ٹوئٹر

ایران کے 13 ویں صدارتی انتخاب 18 جون بروز جمعہ کو ہو رہے ہیں، جس میں 4 امیدوار میدان میں اتریں گے۔ ان دنوں آیت اللہ علی خامنہ ای کے حمایت یافتہ ابراہیم رئیسی سے متعلق امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ کامیاب ہونگے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹ پریس کے مطابق ابراہیم رئیسی ایران عدلیہ کے سربراہ اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے پسندیدہ ترین امیدوار ہیں۔

انتخابات کیلئے اس سے قبل باضابطہ طور پر 7 امیدوار مدِ مقابل تھے۔ تاہم، بدھ کو ایک معتدل جب کہ2 سخت گیر نظریات کے حامل امیدواروں نے دست برداری کا اعلان کیا۔ ایران کے نظامِ حکمرانی کے تحت ریاستی امور کا حتمی فیصلہ سپریم لیڈر کرتے ہیں جب کہ منتخب صدر ملک کے روز مرہ کے امور کو چلاتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق گزشتہ ماہ ایران کی شوریٰ نگہباں (گارڈین کونسل) نے متعدد نامور معتدل اور قدامت پسند امیدواروں کو نا اہل قرار دیا تھا جس کے بعد ابراہیم رئیسی اور ایران کے مرکزی بینک کے سابق سربراہ اور معتدل نظریات کے حامل سمجھے جانے والے امیدوار عبدالناصر ہمتی کے درمیان مقابلہ سخت ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

بدھ کو سابق جوہری مذاکرات کار سعید جلیلی اور سخت گیر نظریات کے حامل قانون ساز علی رضا زاکانی نے دست برداری کا اعلان کیا جب کہ دوسری جانب معتدل محسن مہر علی زادہ نے ہمتی کے لیے خود کو الیکشن کی دوڑ سے الگ کر لیا ہے۔ جس کے بعد اب بھی دو سخت گیر نظریات کے حامل امیدوار میدان میں ہیں جو جمعے کو ہونے والے انتخابات سے قبل یا تو پیچھے ہٹ سکتے ہیں یا وہ ابراہیم رئیسی کی حمایت کر سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ انتخابات میں ٹرن آؤٹ 41 فی صد تک ہو سکتا ہے جو ماضی کے انتخابات کے مقابلے میں کافی کم ہوگا۔

دوسری جانب ایران میں کچھ اصلاح پسند سیاست دان اور بیرون ملک موجود انسانی حقوق کے کارکنان شہریوں سے انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل کر رہے ہیں اور گزشتہ کچھ ہفتوں سے ایران کے اندر اور بیرونِ ملک موجود ایرانی شہری اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگز کا استعمال بھی کر رہے ہیں۔

ایران میں انتخابی امیدواروں کو تین درجوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ حالیہ انتخابات میں حصہ لینے والے سب سے زیادہ امیدوار سخت گیر نظریات کے حامل ہیں جو ایران کے جوہری پروگرام کو وسعت دینے اور اس کے لیے دنیا سے مقابلے کی پالیسی کے حامی ہیں۔ معتدل امیدوار وہ ہیں جو حالات کو جوں کا توں برقرار رکھنا چاہتے ہیں جب کہ اصلاح پسند انہیں کہا جاتا ہے جو نظریاتی بنیاد پر قائم ایران کے نظامِ حکومت میں تبدیلیوں کے خواہاں ہیں۔

سخت گیر ابراہیم رئیسی کون ہیں؟

ابراہیم رئیسی کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ وہ سخت گیر، معتدل اور اصلاح پسند ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مشرق وسطیٰ کے امور کے ایڈیٹر، کے مطابق، ایران کے انتخابات، ایک ایسے سخت گیر امیدوار کی ’دستار بندی‘ کرتے نظر آ رہے ہیں جنہیں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایک مدت سے تیار کر رکھا ہے۔ تاہم اب بھی یہ انتخابات مشرق وسطیٰ کے خطے کے لیے اہم اثرات کے حامل ہیں، جو ایران اور مغرب کے درمیان برسوں سے چلی آنے والی کشیدگی کے سبب پہلے ہی متاثر ہے۔

سپریم کمانڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایران کے فوجی اور جوہری معاملات پر حتمی اختیار حاصل ہے ، جبکہ صدر کا دفتر معیشت جیسے اندرونی معاملات پر کنٹرول رکھتا ہے۔

انتخابی دوڑ میں 60 سالہ ابراہیم رئیسی کو سب سے اہم اور ’فیورٹ‘ امیدوار قرار دیا جا رہا ہے۔ قدامت پسند نظریات کے حامل ابراہیم رئیسی 2019سے ایران کے چیف جسٹس ہیں اور اس سے قبل 3 دہائیوں تک وہ ملک کے قانونی نظام سے منسلک رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی وہ کئی اہم ذمے داریاں ادا کر چکے ہیں۔ انتخابی دوڑ میں صرف دو اصلاح پسند امیدوار شامل ہیں۔ اصلاح پسند امیدوار ایران کے مرکزی بینک کے سابق سربراہ عبدالناصر ہمتی اور سابق نائب صدر محسن مہر علی زادہ کم معروف سیاسی رہنما سمجھے جاتے ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق ابراہیم رئیسی کو ایران کے سپریم لیڈر کا قریبی معتمد تصور کیا جاتا ہے جس کی بنا پر اُنہیں خامنہ ای کے جانشین کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس بار انتخابی میدان میں ان کی کام یابی پر مبصرین کی نگاہیں مرکوز ہیں کیوں کہ سپریم لیڈر بننے سے قبل عوامی مقبولیت ثابت کرنے کے لیے صدارتی انتخابات ایک اہم مرحلہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آیت اللہ خمینی کے بعد سپریم لیڈر بننے والے سید علی خامنہ ای بھی 1989میں اس منصب پر فائز ہونے سے قبل دو مرتبہ صدر منتخب ہو چکے ہیں۔ ابراہیم رئیسی نے 2017 کے صدارتی انتخابات میں بھی حصہ لیا تھا تاہم موجودہ صدر حسن روحانی نے اُنہیں شکست دے دی تھی۔ وہ 38 فی صد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

ایران سے غربت اور کرپشن کے خاتمے کے علاوہ آئندہ چار برسوں میں 40 لاکھ مکانات کی تعمیر ان کے اہم انتخابی وعدوں میں شامل ہیں۔

ابراہیم رئیسی کا پس منظر؟

تجزیہ کاروں اور رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق، جمعے کو ہونے والے انتخابات میں سابق جیوڈیشری چیف ابراہیم رئیسی واضح طور پر صدارتی دوڑ میں سب سے آگے ہیں۔ اگر ابراہیم رئیسی صدارتی عہدہ سنبھالتے ہیں تو ان کی انتظامیہ کی حکمت عملی کیا ہو گی؟ یہ ایک بڑا سوال ہے۔

سال 2019 میں امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابراہیم رئیسی پر اس وجہ سے پابندی عائد کر دی تھی کہ ان کی انتظامی نگرانی میں ایسے افراد کو بھی پھانسی دے دی گئی تھی جو جرم کے ارتکاب کے وقت کم عمر تھے۔ اسی طرح اس وقت ایران میں قیدیوں کے ساتھ ایذا رسانی اور دیگر سخت سزاؤں کا بھی چلن عام تھا۔

ایرانی عدلیہ کے سربراہ کی حیثیت سے رئیسی ایسے نظام کے نگران ہیں جس پر قیدیوں اور سرگرم کارکنوں کے خاندان طویل عرصے سے تنقید کرتے آ رہے ہیں کہ وہ دوہری شہریت والوں کو اور ان افراد کو ہدف بناتا ہے جن کا مغرب کے ساتھ تعلق ہو اور وہ ان کو مذاکرات میں اپنی شرائط منوانے کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے۔

رئیسی نے خارجہ پالیسی سے متعلق زیادہ اشارے نہیں دیئے ہیں، البتہ انہوں نے لبنان کے عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کی ماضی میں تعریف کی ہے اور اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی پر تنقید کی ہے اور اسے فلسطینیوں کو نقصان پہنچانے سے تعبیر کیا ہے۔ رئیسی کے لیے فوری خطرات کہیں اور سے نہیں بلکہ ملک کے اندر سے زیادہ ہیں۔ روز بہ روز گرتی ہوئی معیشت پر ملک کے اندر غم و غصہ پایا جاتا ہے اور حالیہ برسوں میں دو مرتبہ ملک گیر مظاہرے ہوئے ہیں۔

ریاست سے منسلک ایران کی اسٹوڈنٹ پولنگ ایجنسی جسے ایک عرصے سے کٹر مذہبی نظریات کیلئے حمایت کی اہم علامت سمجھا جاتا ہے، وہاں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد حمایت اپنی کم ترین سطح پر ہے۔

برطانوی ادارے رائٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حکام کو امید ہے کہ انتخابات میں ٹرن آؤٹ زیادہ رہے گا۔ لیکن، اب تک سامنے آنے والے سرکاری جائزے کے مطابق تقریباً پانچ کروڑ 90 لاکھ ووٹروں میں سے صرف 40 فی صد ووٹ ڈالیں گے۔

اے ایف پی

صدارتی امیدواروں کی اہلیت

ایران کے صدارتی انتخابات کیلئے اہل اُمیدواروں کا تعین ایران کی گارڈین کونسل (شوریٰ نگہبان) کرتی ہے۔ شوریٰ نے گزشتہ ماہ صدارتی انتخاب لڑنے کے 590 خواہش مندوں میں سے صرف سات ناموں کی منظوری دی تھی۔

شوریٰ نے ایران کے اول نائب صدر اسحاق جہانگیری، سخت گیر مؤقف رکھنے والے سابق صدر محمود احمدی نژاد، سابق اسپیکر علی لاریجانی اور پاسدران انقلاب کے کمانڈر سعید محمد کو بھی صدارتی الیکشن لڑنے کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا۔

واضح رہے کہ ایران کے موجودہ صدر حسن روحانی 2013 میں پہلی بار صدر منتخب ہوئے تھے جب کہ 2017 کے انتخابات میں وہ دوبارہ صدارتی الیکشن جیت گئے تھے۔ البتہ ایران کے آئین کے تحت وہ مسلسل تیسری بار صدارتی الیکشن لڑنے کے اہل نہیں ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube