کیا امریکا بدنام زمانہ گوانتا ناموبے جیل بند کر رہا ہے؟

SAMAA | - Posted: Jun 10, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Jun 10, 2021 | Last Updated: 1 month ago

فائل فوٹو

امریکی میڈیا سے جاری رپورٹس میں اس بات کی جانب اشارہ دیا گیا ہے کہ نئے امریکی صدر جو بائیڈن نے خفیہ لائحہ عمل کے تحت گوانتا ناموبے جیل کو بند کرنے پر کام شروع کردیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق رواں سال 9/11 کے 20 سال مکمل ہونے پر ستمبر میں اس جیل کو بند کردیا جائے گا، جہاں نائن الیون سمیت کئی دیگر اہم مقدمات کے ملزمان موجود ہیں۔

سابق امریکی اہل کار کا نام نہ بتانے کی شرط پر کہنا تھا کہ امریکی صدر اس غلطی کو نہیں دہرانا چاہتے جو سابق صدر براک اوباما نے کی تھی، یہ ہی وجہ ہے کہ نائن الیون کی 20 ویں برسی کے موقع پر امکان ہے کہ جیل کو مکمل طور پر بند کردیا جائے، جس پر کام بھی شروع کردیا گیا ہے۔

اس سے قبل سبکدوش ہونے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جیل کو کھلا رکھنے کے حکم نامے پر دستخط کیے تھے، جب کہ ان کے دور حکومت میں ایک قیدی کو دوسرے ملک کے حوالے بھی کیا گیا۔

موجودہ امریکی صدر بائیڈن کے برسر اقتدار آنے کے بعد کیوبا کی ساؤتھ ایسٹ کوسٹ کی اس جیل میں اب بھی ایسے 40 قیدی موجود ہیں، جن کے بارے میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ انہیں جلد کسی دوسرے ملک کے حوالے کردیا جائے گا۔ جس میں 2 یمنی اور ایک پاکستانی شامل ہیں، تاہم ان کی شناخت یا ناموں سے متعلق کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

اس سے قبل گزشتہ ماہ مئی میں 3 مزید قیدیوں کو نامزد کردہ ممالک کے حوالے کرنے کا اہل قرار دیا گیا۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان قیدیوں کو کب کب اور کس ملک کو بھیجا جائے گا۔

ان تینوں قیدیوں کو دوسرے ممالک کے سپرد کرنے کی منظوری امریکا کی قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں دی گئی ، جس کی سربراہی جو بائیڈن نے کی تھی۔ اجلاس میں وزارت دفاع کے اراکین بھی شامل تھے۔

جیل میں قید درجن کے قریب ایسے قیدی بھی ہیں، جن کی قسمت سے متعلق فی الحال کوئی فیصلہ سامنے نہیں آسکا، جس میں 9/11 کے سزا یافتہ مجرمان بھی شامل ہیں۔ ان میں سے 10 قیدی ملٹری کمیشن کے سامنے پیش ہوئے ہیں، یہ وہ قیدی ہیں، جو کسی نہ کسی طور امریکی سلامتی کیلئے خطرہ بنے ہیں۔ جب کہ 2 قیدیوں کو امریکی ملٹری کمیشن سے سزا ہوچکی ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس بات کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ سب سے زیادہ خطرناک سمجھے جانے والے قیدیوں کے مقدمے کی کارروائی سے قبل ہی فوجی اور سیاسی انتظامیہ قیدیوں سے متعلق اس ڈیل پر پہنچ جائے کہ انہیں کسی دوسرے ملک کے حوالے کرنے کے بجائے امریکی سرزمین پر ہی قید رکھا جائے اور ان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا جائے تاکہ وہ مستقبل میں دوبارہ خطرہ نہ بن سکیں۔

اس سے قبل رواں سال فروری میں وائٹ ہاؤس ترجمان کا کہنا تھا کہ جو بائیڈن کے دور صدارت میں کیوبا میں قائم جیل کی ممکنہ بندش کے بارے میں حتمی طور کچھ نہیں کہا جا سکتا مگر یہ یقینی طور پر ہمارا مقصد اور ہمارے ارادوں میں شامل ہے۔‘

سابق صدر اوباما کے دور میں کچھ نظربند افراد کو گوانتانامو سے رہائی کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن وہ اس معاملے پر کبھی بھی کانگریس کے ساتھ سمجھوتہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ یاد رہے کہ جو بائیڈن اوباما انتظامیہ میں نائب صدر تھے۔

اس فوجی جیل میں 11 ستمبر 2001 کو ہونے والے حملوں میں مبینہ طور مالی مدد فراہم کرنے کے الزام میں پاکستانی شہری خالد شیخ محمد بھی قید ہیں۔

جیل میں شیخ خالد کے ساتھ اب بھی 40 کے قریب افراد قید ہیں جن میں سے 26 کو رہا کرنا انتہائی خطرناک سمجھا جاتا ہے لیکن ان کے مقدمات کی پیچیدگی کے باوجود قانونی کارروائی جاری ہے۔

گوانتانامو کسی زمانے میں عالمی غم و غصے کا سبب اور دہشت گردی کی جنگ میں ضرورت سے زیادہ امریکی ردعمل کی علامت تھی لیکن صدر براک اوباما کی اسے بند کرنے کی کوششوں کے بعد یہ بڑے پیمانے پر سرخیوں سے ہٹ گئی تھی۔

یہ حراستی مرکز 2002 میں کھولا گیا جب صدر جارج ڈبلیو بش کی انتظامیہ نے 11 ستمبر، 2001 کے بعد القاعدہ اور طالبان سے روابط کے الزام میں گرفتار کیے گئے مشکوک افراد سے تفتیش اور انہیں قید کے لیے کیوبا کے جنوب مشرقی علاقے میں بحریہ کی ایک چوکی کو قید خانے میں تبدیل کر دیا تھا۔

گزشتہ برسوں کے دوران گوانتانامو میں نو قیدی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے سات نے بظاہر خود کشی کی، ایک کینسر اور ایک دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہوا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube