Sunday, September 26, 2021  | 18 Safar, 1443

اسرائیلی حملےکاشکارکمسن بچہ ماں کا دودھ کیوں نہیں پیتاتھا؟

SAMAA | - Posted: May 20, 2021 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: May 20, 2021 | Last Updated: 4 months ago

فوٹو: مڈل ایسٹ آئی

ایک فلسطینی نے اسرائیلی حملے میں سوائے اپنے 5 پانچ ماہ کے بچے کے گھر کے تمام افراد کو کھودیا تاہم انہوں نے اپنے لخت جگر کے حوالے سے ایک عجیب بات بتائی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی ایک رپورٹ میں 37 سالہ محمد الحدید سے بات چیت شامل کی گئی ہے جس میں اس باہمت شخص نے اپنے گھر کی بربادی کی داستان سنائی لیکن وہ اللہ کی رحمت سے کہیں مایوس دکھائی نہیں دیا۔

واضح رہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کی پٹی پر جاری تباہ کن حملوں میں پورے پورے فلسطینی خاندان صفحہ ہستی سے مٹے ہیں یا پھربھرے پرے گھر میں سے صرف دو ایک افراد ہی زندہ بچ سکے ہیں۔

شاہ محمود کافلسطینیوں کےتحفظ کیلئےعالمی فورس بنانےکا مطالبہ

ان ہی بدقسمت و بے بس فلسطینیوں میں محمد الحدید بھی ہیں۔ اسرائیلی فوج کے جمعہ کی شب غزہ پر فضائی حملے میں ان کی 36 سالہ اہلیہ ماہا اور 4 بیٹوں بشمول 13 سالہ صہیب ، 11سالہ یحییٰ، 8 سالہ عبدالرحمان اور 6 سالہ اسامہ شہید ہوگئے جبکہ ان کا پانچ ماہ کا زخمی بیٹا عمر بچ گیا۔ الحدید خود اس وقت اپنے اہلخانہ کے ساتھ نہیں تھے۔

ہفتے کو علی الصبح امدادی کارکنان نے ملبے تلے دبے کم سن عمر کو نکالا تھا جسے اس کی شہید ماں نے اپنی موت جھیلتے وقت بھی اپنی بانہوں کے مضبوط ومحفوظ حصار میں لیا ہوا تھا۔ اسرائیلی حملے میں وہ خود تو نہ بچ سکیں لیکن اپنے کم سن بچے کی جان بچا لینے میں کامیاب رہیں۔ تاہم بچے کی ایک ٹانگ ملبہ میں پھنس جانے سے 3 جگہوں سے ٹوٹ گئی تھی اور وہ اسپتال میں زیرعلاج ہے۔

غزہ پر اسرائیلی حملے:جنرل اسمبلی کا اجلاس آج ہوگا

اس عظیم غم پر صبر کرنے والے الحدید اب اپنے واحد سہارے عمرکا علاج کرارہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ہم بھی اپنے پیاروں سے ملنے اور اللہ کی جانب لوٹنے والے ہیں۔

یہ دردناک واقعہ جمعہ کو عیدالفطر کے دوسرے روز پیش آیا تھا۔ الحدید بتاتے ہیں کہ ان کی اہلیہ کمسن عمر اور دوسرے بچوں کو لے کر غزہ شہر کے نواح میں واقع شعطی مہاجرکیمپ میں اپنے میکے گئی ہوئی تھیں کہ وہاں سے بچوں نے فون کر کے کہا کہ وہ رات ماموں کے گھر ہی گزارنا چاہتے ہیں۔

اسرائیل کی حمایت، ایپ اسٹورز پر فیس بک کی ریٹنگ گرگئی

انہوں نے مزید بتایا کہ وہ اس رات اپنے گھرمیں اکیلے تھے کہ اچانک ہی بمباری کی آواز سن کر ان کی آنکھ کھل گئی تاہم تھوڑی دیر کے بعد ہی ایک ہمسائے نے فون پر آگاہ کیا کہ ایک اسرائیلی میزائل نے ان کے برادر نسبتی کے مکان کو نشانہ بنایا ہے۔ جب وہ بد حواسی کے عالم میں بھاگتے ہوئے وہاں پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ مکان ملبے کے ایک ڈھیر میں تبدیل ہو چکا تھا اور امدادی کارکنان ملبے تلے دبی لاشیں نکال رہے تھے۔

دنیا کے نام نہاد مہذب اور انسانی حقوق کے علمبردار ممالک کی بیجا حمایت حاصل کرلینے والے اسرائیل کے اس حملے میں اس گھر میں موجود الحدید کی بے گناہ فیملی سمیت ان کے سالے اور ان کے بیوی و 4 بچوں کی زندگیاں بھی چھین لی گئیں۔

اسرائیلی وزیراعظم نےفلسطینیوں کیخلاف بربریت کااصل مقصد بتادیا

الحدید نے اسپتال میں اپنے کم سن بیٹے کو بازوؤں میں تھامے ہوئے ایک عجیب بات بتائی۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے تمام بیٹے اپنی کمسنی کے وقت ماں کا دودھ پیتے تھے لیکن حیرت انگیز طور پر عمر نے پہلے دن ہی سے ماں کا دودھ نہیں پیا۔ انہوں نے اس حوالے سے اپنی توجیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اللہ شاید ہمیں اس حادثے سے نبرد آزما ہونے کے لیے تیار کر رہا تھا اور ہمیں تب اس کا کوئی اندازہ نہیں تھا لیکن اب میں خود اس کم سن کی پرورش کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج غزہ میں جان بوجھ کر بچوں کو نشانہ بنا رہی ہے اور وہ کسی پیشگی انتباہ کے بغیر شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube