Wednesday, July 28, 2021  | 17 Zilhaj, 1442

برطانیہ کی پہلی باحجاب فائر فائٹر نے دقیانوسی سوچ کو شکست دیدی

SAMAA | - Posted: Apr 27, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Apr 27, 2021 | Last Updated: 3 months ago

بشکریہ یوٹیوب

برطانیہ سے تعلق رکھنے والی 27 سالہ عروشا ارشد کو برطانیہ کی تاریخ کی پہلی باحجاب فائر فائٹر کا اعزاز حاصل ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں عروشا کا کہنا تھا کہ اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ انہیں دیکھ کر بالکل یقین نہیں آتا کہ میں ایک فائر فائٹر ہوں، کیوں کہ ان کی نظر میں فائر فائٹر ایسے نہیں ہو سکتے اور میرا اشارہ حجاب کی جانب ہے۔

باہمت 27 سالہ عروشا برطانیہ کے علاقے نوٹنگم سے تعلق رکھتی ہیں۔ اپنے پیشہ وارانہ زندگی سے متعلق انہوں نے بتایا کہ دقیانوسی ذہنیت یا یوں کہیں کہ وہ لوگ جو ہمیشہ سے چیزوں کو ایک ہی رخ سے دیکھتے آئے ہوں، ان کیلئے مجھے اس روپ میں دیکھنا بہت عجیب ہوتا ہے۔

عروشا کی والدہ کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں نوٹنگم فائر ڈیپارٹمنٹ نے بھی میری بیٹی کی ہر ممکن مدد کی اور اسے حجاب کے ساتھ آکسیجن ماسک پہننے کو سراہا اور اجازت دی۔ عروشا کو دیکھ کر مجھے امید ہے کہ دوسری مسلمان لڑکیاں بھی اس جانب آئیں گی اور اگر ان کو لگتا تھا کہ حجاب کی وجہ سے وہ یہ کام نہیں کرسکتی تو اب ان اس کا جواب بھی مل گیا ہوگا۔

ادارے سے گفتگو میں فائر فائٹر نوٹنگم کے ترجمان نے کہا کہ ہمیں اس بات پر بہت فخر ہے کہ ہمارے ملک میں پہلی باحجاب فائر فائٹر کو بھرتی کیا گیا ہے۔

جنرل سیکریٹری فائر فائٹر بریگیڈ یونین کا کہنا تھا کہ دیگر شعبوں کی طرح فائر فائٹنگ بھی ایک شعبہ ہے اور عروشا بھی دوسرے فائر فائٹرز کی طرح ایک ایسی مثال ہے، جس سے خواتین کو اس شعبہ میں ملازمت کیلئے حوصلہ ملے گا۔

عروشا کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ میں اس ملک کی پہلی باحجاب فائر فائٹر ہوں، مگر یہ سلسلہ یہاں رکنا نہیں چاہئے اور میرے ساتھ ساتھ دیگر خواتین کو بھی اس شعبے کا رخ کرنا چاہیئے۔ یہ ایک چیلنجنگ کام ہے، جو میں اچھی طرح ادا کر رہی ہوں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube