فوٹوشاپ کی جعل سازی،کیسےپاکستانی روسی کےہاتھوں استعمال ہوا

SAMAA | - Posted: Apr 18, 2021 | Last Updated: 3 weeks ago
SAMAA |
Posted: Apr 18, 2021 | Last Updated: 3 weeks ago

فائل فوٹو

جدید ٹیکنالوجی کی ایجاد ایڈوب فوٹو شاپ صرف آپ کی تصاویر کو مزید نکھارنے یا اس میں غیر حقیقی رنگ بھرنے میں ہی استعمال نہیں ہوتا بلکہ کچھ شیطان دماغ افراد اسے غلط کاموں کیلئے بھی استعمال کرتے ہیں اور ایسا ہی کچھ ہوا کراچی کے محسن رضا کے ساتھ۔

برطانوی خبر رساں ادارے روائٹرز نے اپنی خبر میں کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے 34 سالہ فوٹو شاپ ایکسپرٹ کی کہانی شائع کی ہے، جو اپنے فن کے باعث روسی کے ہاتھوں غلط کاموں میں استعمال ہوگیا۔ کارروائیاں منطر عام پر آنے کے بعد امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے محسن خالد پر 6 الزامات کے تحت فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

محسن رضا کا فوٹو شاپ سے ہیرا پھیری کا معاملہ ان کے اپنے پے پیل اکاؤنٹ کے منجمد ہونے سے شروع ہوا۔ بقول محسن رضا کے ان کے پے پیل اکاؤنٹ میں کئی ہزار ڈالر موجود تھے، مگر چونکہ یہ اکاؤنٹ انہوں نے فرضی نام پر بنایا تھا، سو پے پیل والوں کی جانب سے اسے تصدیق نہ ہونے پر منجمد کردیا گیا۔ اتنے ہزار ڈالر یوں ہاتھوں سے جاتا دیکھ کر محسن رضا سٹپٹا گیا اور اس کے دماغ میں ایک خیال آیا۔

اس نے فوٹو شاپ کی مدد سے نقلی شناخت بنا کر اپنے پے پیل اکاؤنٹ کو ایکٹیویٹ کرایا اور اس میں موجود رقم کو نکلوایا۔ یہاں سے محسن کے دماغ میں فوٹو شاپ کا دیگر ذریعوں سے استعمال کا آئیڈیا ملا۔

روائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ کے بیان اور نیو جرسی میں وفاقی استغاثہ کی رپورٹ میں محسن رضا پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ محسن رضا نے ڈیجیٹل جعلی آئی ڈی بنائیں، جس میں ڈرائیوروں کے جعلی لائسنس، بوگس پاسپورٹ اور جعلی یوٹیلٹی بلوں کی تصاویر شامل ہیں۔ ان جعلی دستاویزات کے ذریعے روسی گاہکوں کو امریکی ادائیگی کمپنیوں اور ٹیک فرموں میں تصدیقی جانچ پاس کرنے میں مدد ملی۔

امریکا کی جانب سے 6 الزامات پر مبنی فرد جرم میں محسن رضا پر جھوٹی دستاویزات بنانے اور شناخت کی چوری کرنے کے الزام عائد کیے گئے ہیں۔ امریکا کی جانب سے مبینہ طور پر روسی خفیہ ادارے کی ایما پر کام کرنے والی متعدد روسی سائبر سیکیورٹی کمپنیوں اور حکام پر جمعرات کے روز پابندیاں عائد کی گئیں۔

روائٹرز نے امریکی محکمہ خزانے کی پابندیوں کی فہرست کے ذریعے فراہم کردہ ٹیلی فون نمبر پر پاکستان میں رضا تک پہنچے کی کوشش کی۔ محسن رضا نے اپنی شناخت کی تصدیق کرتے ہوئے ڈیجیٹل جعل ساز ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آرڈر پر شناختی کارڈز، بلوں اور دیگر دستاویزات کو تبدیل کرنے کیلئے فوٹو شاپ کا سہارا لیا۔

محسن نے مزید بتایا کہ وہ گرافک ڈیزائننگ، ای کامرس اور کرپٹو کرنسی کا بھی کاروبار کرتے ہیں- انہوں نے کسی بھی غلط کام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف لوگوں کو ان اکاؤنٹس تک رسائی میں مدد کر رہے ہیں جو منجمد کر دیے جاتے ہیں اور وہ اس کا کوئی ڈیٹا نہیں رکھتے کہ ان سے کام کرانے والا کون ہے۔

نیوجرسی کی فرد جرم میں الزام لگایا گیا کہ ان کے صارفین میں انٹرنیٹ ریسرچ ایجنسی کا ملازم بھی شامل تھا جو ایک بدنام زمانہ روسی ٹرول فرم جسے امریکی تفتیش کار، میڈیا رپورٹس، لیک دستاویزات اور سابق اندر کے افراد نے امریکی انتخابات میں مداخلت کی کوششوں میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔ فرد جرم کے مطابق آئی آر اے کے ملازم نے 2017 میں فیس بک پر جعلی اکاؤنٹس کی شناخت کی جانچ کے لیے جعلی ڈرائیوروں کے لائسنس حاصل کرنے کی خاطر محسن رضا سے آن لائن رابطہ کیا اور ان کی خدمات حاصل کیں۔

ان تمام معاملے کے منظر عام پر آنے کے بعد اب محسن رضا اپنی ویب سائٹ سیکنڈ آئی سلوشنز کو بند کر چکے ہیں، جس پر ان کے مطابق 6000 سے زائد صارفین موجود تھے، جو ان کی مدد پر ان کے شکر گزار بھی تھے۔ پرانی ویب سائٹ پر صارفین کے متعدد جائزے دکھائے گئے جن میں اکاؤنٹس کی تصدیق کے لیے استعمال ہونے والی جعلی شناختی دستاویزات فراہم کرنے پر سیکنڈ آئی کا شکریہ ادا کیا گیا۔

رضا نے کہا کہ جعلی شناختی کارڈ کے کاروبار سے کمائی گئی رقم سے انہوں نے فریش ایئر فارم ہاؤس بنایا۔ اس فارم ہاؤس میں 3 بیڈ روم، ایک کھیل کا میدان، ایک پانی کی سلائیڈ اور ایک بار بی کیو کی جگہ شامل ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ امریکی محکمہ خزانہ نے صدر جو بائیڈن کی طرف سے جاری ہونے والے نئے ایگزیکیٹیو آرڈر کے تحت روس کی ایما پر امریکی انتخابات میں مداخلت کے الزام میں جن متعدد افراد اور کمپنیوں کے خلاف پابندیاں عائد کی ہیں ان میں چھ پاکستانی افراد اور پانچ کمپنیاں بھی شامل ہیں۔

ان میں کراچی میں محسن رضا کی کمپنی کے علاوہ چار مزید افراد میں سید حسنین، محمد خضر حیات، مجتبی علی رضا اور سید علی رضا شامل ہیں۔ اس فہرست میں شامل چھ میں سے ایک احمد شہزاد کا تعلق لاہور سے بتایا گیا ہے۔ یہ سب 26 اور 35 سال کی عمر کے درمیان بتائے گئے ہیں۔

کمپنیوں میں لائکوائز، فریش ایئر فارم، ایم کے سافٹ ٹیک، سیکنڈ آئی سولیوشن اور دی آکسی ٹیک شامل ہیں۔

شائع رپورٹ میں تاہم اس بات کا ذکر شامل نہیں کہ آیا امریکی ادارے کے فیصلے کے بعد یہ کس حد تک ان کیلئے مستقبل میں بڑا مسئلہ بن سکتا ہے اور کیا پاکستانی حکام نے اس پر کوئی بیان دیا ہے؟ یا امریکی ادارے کے فیصلے کا اثر پاکستانی میں رہنے والے شہری پر ہو سکتا ہے؟۔

خبر رساں ادارے روائٹرز کے مطابق محسن رضا فیس بک پر اپنے فارم ہاؤس کا صفحہ اس یو آر ایل کے تحت چلا رہے ہیں، تاہم فیس بک کی جانب سے فی الحال صفحے سے متعلق کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔
https://www.facebook.com/FreshAirFarmHouseKarachi

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube