مسجد حرام میں اب افطاری کیسے کی جاتی ہے؟

SAMAA | - Posted: Apr 14, 2021 | Last Updated: 4 weeks ago
SAMAA |
Posted: Apr 14, 2021 | Last Updated: 4 weeks ago

فوٹو: العربیہ

رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی حرمین شریفین میں روزہ داروں کے باعث ماحول کی روحانیت میں بے پناہ اضافہ ہوجاتا ہے وہاں سیکڑوں میٹر لمبے دستر خوان بچھائے جاتے ہیں جن پر روزہ دار بیٹھ کر روزہ افطار کرتے ہیں لیکن کرونا وبا سے احتیاط کے سبب اب منظر کچھ تبدیل ہوگیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق اس سال کرونا وبا کی وجہ سے اجتماعی افطار کے بجائے روزہ داروں کو الگ الگ روزہ افطار کرایا جاتا ہے۔

انتظامیہ نے امارہ مکہ کی نمائندہ سقایہ و رفادہ کمیٹی کے تعاون سے روزہ داروں کو انفرادی طور پر کھجوریں فراہم کرنے کی اجازت دی ہے تاہم حرم مکی میں سحری کے لیے کھانا تقسیم کرنے یا لانے کی اجازت نہیں۔

مسجد حرام کے انتظامی امور کی ذمہ دار صدارت عامہ کی طرف سے رضا کارانہ طور پر معتمرین اور حرم شریف کے ملازمین کے لیے الگ الگ افطار کا انتظام کیا گیا ہے۔

رضا کارانہ امور کے ڈائریکٹر خالد الشلوی کا کہنا ہے کہ افطاری کا سامان معتمرین اور نمازیوں میں ان کی جگہ پر پہنچایا جاتا ہے اور اس کی تقسیم میں بھی کرونا ایس اوپیز کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube