Monday, April 12, 2021  | 28 Shaaban, 1442

کرونا سے دماغی امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، تحقیق

SAMAA | - Posted: Apr 7, 2021 | Last Updated: 5 days ago
SAMAA |
Posted: Apr 7, 2021 | Last Updated: 5 days ago

ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس سے صحتیاب ایک تہائی مریضوں میں دماغی امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق برطانیہ میں کرونا وائرس اور دماغی بیماری میں تعلق پر تحقیق کے مطابق کرونا وائرس کے بعد ڈپریشن، ڈیمینشیا، اسٹروک جیسے دماغی امراض کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں کی گئی تحقیق میں 2 لاکھ 30 ہزار سے مریضوں کا جائزہ لیا گیا، جس میں پتہ چلا کہ کرونا وائرس کا دماغ پر براہ راست اثر ہوتا ہے، مجموعی طور پر 34 فیصد مریضوں میں 6 ماہ کے دوران اعصابی اور نفسیاتی اثرات کی تشخیص ہوئی۔

تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ کرونا وائرس میں مبتلا افراد 14 قسم کے دماغی امراض میں مبتلا ہوسکتے ہیں، جن میں اینزائٹی اور موڈ میں اُتار چڑھاؤکی شکایت عام ہے جبکہ اسٹروک اور ڈیمینشیا کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ 17 فیصد مریضوں میں اینزائٹی اور 14 فیصد میں موڈ میں اُتار چڑھاؤ پایا گیا، 13 فیصد افراد میں دماغی صحت میں خرابی کی پہلی بار تشخیص ہوئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسپتال میں داخل ہونے والے اور آئی سی یو کے مریض دماغی امراض کے خطرے کی زد پر زیادہ ہوتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube