برطانیہ: ایسٹرازینیکا سے خون میں کلاٹنگ، 7افراد ہلاک

SAMAA | - Posted: Apr 3, 2021 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Apr 3, 2021 | Last Updated: 4 months ago

برطانیہ کے طبی نگراں ادارے کے مطابق ایسٹرا زینیکا کی کرونا ویکسین لگنے کے بعد خون جمنے (بلڈ کلاٹنگ) سے 7 افراد ہلاک ہوگئے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ہفتہ کو برطانوی طبی نگراں ادارے نے ایسٹرازینیکا۔آکسفورڈ ویکسین لگنے کے بعد خون جمنے (بلڈ کلاٹنگ) کے نتیجے میں 7 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی۔

برطانوی میڈیسن اینڈ ہیلتھ کیئر پروڈکٹس ریگولیٹری ایجنسی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ایسٹرا زینیکا کی ویکسین لینے کے بعد 30 افراد میں خون جمنے کی شکایت سامنے آئی تھی، جس میں سے 7 ہلاک ہوگئے ہیں۔

ایم ایچ آر اے کی چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر جون رینے کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ایجنسی رپورٹس کا تفصیل سے جائزہ لے رہی ہے، لیکن ویکسین لگانے کا عمل جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایسٹرازینیکا کی وجہ سے وباء پر قابو پانے میں مدد مل رہی ہے اور لوگوں کو جب ویکسین لگوانے کا کہا جائے تو انہیں لگوانی چاہیے، ہم ماہرین صحت سے کہہ رہے ہیں کہ ’کورونا وائرس ییلو کارڈ‘ ویب سائٹ ہر ایسے کیس کی رپورٹ  کریں جس کا تعلق ویکسین سے بنتا ہے۔

دوسری طرف برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق ہیماٹالوجی پینل کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ویکسین کے فوائد اس کے نقصانات سے کہیں زیادہ ہیں۔

یاد رہے کہ چند ممالک میں ایسٹرا زینیکا کی ویکسین کے استعمال کے بعد بلڈ کلاٹنگ کے واقعات سامنے آئے تھے جس کے بعد ویکسین لگانے کا عمل معطل کردیا گیا تھا۔

ویکسین سے متعلق شکوک و شبہات  دور کرنے کیلئے عالمی ادارہ صحت کے چیف سائنسدان سومیا سوامیناتھن نے تمام ممالک کو ایسٹرا زینیکا ویکسین کا استعمال جاری رکھنے کا کہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ فی الحال خون میں پھٹکیاں بننے کے واقعات کا ویکسین سے کوئی تعلق سامنے نہیں آیا۔

عالمی ادارہ صحت کی گلوبل ایڈوائزری کمیٹی نے بھی کہا تھا کہ ایسٹرا زینیکا ویکسین انفیکشن سے بچانے اور دنیا بھر میں اموات کو کم کرنے کی بے حد صلاحیت رکھتی ہے۔

ماہرین کے مطابق خون میں پھٹکیاں بننے کا عمل قدرتی اور غیر معمولی ہے جو کرونا وائرس کا شکار ہونیوالے مریضوں میں بھی ہوچکا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق خون میں پھٹکیاں بننے کے کیسز توقع سے کم ہیں۔

خیال رہے کہ جرمنی، فرانس، اٹلی، ڈنمارک، ناروے، آئس لینڈ، تھائی لینڈ اور نیدر لینڈز نے ایسٹرا زینیکا کا استعمال روک دیا تھا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube