Saturday, June 12, 2021  | 1 ZUL-QAADAH, 1442

اویغورمسلمانوں کا حراستی مراکز بند کروانے کیلئے امریکا کو خط

SAMAA | - Posted: Mar 18, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Mar 18, 2021 | Last Updated: 3 months ago

فوٹو : اے ایف پی

اویغور مسلمانوں نے امریکا سے چین کے صوبہ سنکیانگ میں قائم حراستی کیمپ بند کروانے کا مطالبہ کردیا۔ دولکن عیسیٰ کا کہنا ہے کہ مشرقی ترکستان میں جاری نسل کشی فوراً بند کرے۔

غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اویغور مسلمان برادری نے جمعرات کو امریکی سیکریٹری خارجہ انتھونی بلنکن کو لکھے گئے خط میں درخواست کی ہے کہ چین سے سنکناینک میں قائم حراستی کیمپ بند کروانے کا مطالبہ کیا جائے۔

بین الاقوامی سطح پر اویغور مسلمانوں کی نمائندگی کرنیوالے گروپ ’’ورلڈ اویغور کانگریس‘‘ کے صدر دولکن عیسیٰ کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ چین غیر مشروط بنیادوں پر مشرقی ترکستان میں انسانیت کے خلاف جاری نسل کشی فوراً بند کرے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اقوام متحدہ اور سماجی تنظیموں کے اعداد و شمار کے مطابق چین نے 10 لاکھ سے زائد اویغور اور دیگر ترک مسلمانوں کو ان کی مرضی کے بغیر ان حراستی کیمپوں میں قید کیا ہوا ہے۔

خط میں تمام حراستی کیمپوں کو بند کرنے اور قیدیوں کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

دولکن عیسیٰ نے مزید کہا ہے کہ امریکا سنکیانگ میں جاری جبری مشقت بھی بند کروانے کا مطالبہ کرے جبکہ چین اقوام متحدہ کو صوبہ سنکیانگ میں تحقیقات کرنے کی اجازت دے۔

چین نے نسلی اور مذہبی اقلیتوں کیخلاف نسل کشی کے امریکی الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کیمپوں میں اسلامی انتہاء پسندی اور علیحدگی پسندی کیخلاف تربیت دی جاتی ہے۔

امریکی اور چینی حکام کے درمیان پہلی بار رابطہ متوقع ہے، سیکریٹری خارجہ انتھونی بلنکن اور قومی سلامتی کے مشیر جیک سولیوان کی الاسکا میں چینی اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقات ہوسکتی ہے۔

امریکی سیکریٹری خارجہ پہلے ہی چین کی خطے میں جارحانہ پالیسیوں کی مخالفت کرچکے ہیں۔

انڈیپینڈنٹ اردو کے مطابق اقوام متحدہ میں چینی مندوب نے انسانی حقوق کی کونسل کو بتایا کہ سنکیانگ اور تبت کے علاقے خوشحال اور مستحکم ہیں، چین پر نسل کشی کا الزام عائد کرنا مضحکہ خیز ہے۔

دوسری جانب یورپی یونین کے رکن ممالک نے اصولی مؤقف اپناتے ہوئے چینی حکام کو بلیک لسٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube