Saturday, December 4, 2021  | 28 Rabiulakhir, 1443

سوئٹزرلینڈ:عوامی مقامات پرنقاب پرپابندی،ووٹنگ7مارچ کوہوگی

SAMAA | - Posted: Mar 4, 2021 | Last Updated: 9 months ago
SAMAA |
Posted: Mar 4, 2021 | Last Updated: 9 months ago

فائل فوٹو

سوئٹزرلینڈ میں نقاب پر پابندی عائد کرنے سے متعلق ریفرنڈم پر 7 مارچ بروز اتوار کو ووٹنگ ہوگی۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یورپی ملک سوئٹزرلینڈ میں ایسا بہت ہی کم دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی عوام مقام پر کوئی خاتون نقاب میں نظر آئی ہوں، ایسا نہ ممکن نہیں مگر ان کی تعداد انتہائی کم ہے۔

سوئٹزرلینڈ کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت سوئس پیپلز پارٹی (ایس وی پی) کی جانب سے ایسی مہم کا آغاز کیا گیا ہے، جو چاہتے ہیں کہ ملک میں عوامی مقامات پر نقاب کرنے پر پابندی عائد کی جائے۔

پارٹی کی جانب سے سوئٹرزلینڈ کے سب سے بڑے شہر زیورخ کے باہر گاؤں میں ایک انتہا پسندی کو روکیں کا بل بورڈ بھی لگایا گیا ہے، جس میں خاتون کی تصویر موجود ہے جس نے سیاہ ہیڈ اسکارف پہنا ہوا ہے اور نقاب کیا ہے۔

ریفرنڈم کے بعد اگر رائے شماری سے اکثریتی سوئس شہریوں نے ریفرنڈم کے حق میں ووٹ ڈالے تو اس کے بعد یہ پابندی قانون کی شکل اختیار کرلے گی۔

ریفرنڈم میں براہ راست اسلام کا ذکر نہیں کیا گیا اور اس کا مقصد سڑکوں پر پُرتشدد مظاہرین اور تعصب پسند غنڈوں کو ماسک پہننے سے روکنا بھی ہے لیکن پھر بھی مقامی سیاستدان، میڈیا اور دیگر مہمات اسے ریفرنڈم کو ‘برقعہ پابندی’ قرار دے رہے ہیں۔

یہ تجویز سوئٹرزلینڈ میں 2009 میں کسی بھی عمارت پر مینار پر پابندی سے متعلق ووٹنگ کے بعد اب اسلام کے ساتھ تعلقات کو مزید پیچیدہ بنارہی ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سوئٹزرلینڈ کی 2 رکن ریاستوں (کینٹنز) میں پہلے ہی نقاب پر پابندی عائد ہے۔ 86 لاکھ افراد پر مشتمل سوئٹزرلینڈ کی آبادی کا 5.2 فیصد حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے جن میں سے اکثر کا تعلق ترکی، بوسنیا اور کوسوو سے ہے۔

واضح رہے کہ یورپی ملک فرانس میں بھی سال2011 میں عوامی مقامات پر نقاب کرنے پر پابندی لگائی تھی، جب کہ ڈنمارک، آسٹریا، نیدرلینڈز اور بلغاریہ میں عوامی مقامات پر نقاب پر مکمل یا جزوی پابندی عائد ہے۔

اس سے قبل سال 2017 میں سوئٹزرلینڈ کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں سوئس پیپلز پارٹی کی جانب سے پیش کیا گیا نقاب پر پابندی کا بل مسترد کر دیا گیا تھا۔ سوئٹزر لینڈ کی ایوان بالا میں ہونے والی ووٹنگ میں بل کی مخالفت میں 26 اور حق میں صرف 9 ووٹ پڑے جب کہ 4 اراکین نے ووٹنگ میں حصہ ہی نہیں لیا تھا۔

سینیٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ نقاب پر پابندی لگانے کی کوئی ضرورت نہیں، اس سے ملکی سیاحت کو نقصان ہوگا۔ دوسری جانب بل پیش کرنے والے رکن پارلیمنٹ نے نقاب پر پابندی کیلئے ریفرنڈم کرانے کی پٹیشن دائر کی تھی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube